کوئٹہ: مغربِ ایشیا میں جاری حالیہ کشیدگی اور فضائی حملوں کے بعد پاکستان نے اپنے شہریوں کے انخلا کا عمل تیز کرتے ہوئے اب تک 792 افراد کو ایرا...
کوئٹہ: مغربِ ایشیا میں جاری حالیہ کشیدگی اور فضائی حملوں کے بعد پاکستان نے اپنے شہریوں کے انخلا کا عمل تیز کرتے ہوئے اب تک 792 افراد کو ایران سے بحفاظت وطن منتقل کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق واپس لائے گئے افراد میں 46 طلبہ بھی شامل ہیں، جب کہ دیگر میں مزدور، خاندان اور مختلف شعبوں سے وابستہ پاکستانی شہری شامل ہیں۔
یہ انخلا ایران میں ہونے والے حالیہ حملوں کے تناظر میں عمل میں آیا۔ بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستانی سفارتی حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع کیا گیا۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار کے مطابق شہریوں کو ایران سے نکال کر تفتان اور گوادر کی سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے پاکستان لایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سرحدی مقامات پر خصوصی انتظامات کیے، جہاں واپس آنے والوں کی رجسٹریشن، طبی معائنہ اور عارضی قیام کی سہولت فراہم کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید انخلا بھی کیا جا سکتا ہے۔
وطن واپس پہنچنے والے بعض افراد نے بتایا کہ اگرچہ عالمی میڈیا میں تہران میں بڑے پیمانے پر تباہی کی خبریں نشر ہو رہی ہیں، تاہم کچھ دیگر شہروں میں صورتحال نسبتاً پرسکون رہی۔ ایران کے شہر اصفہان سے تعلق رکھنے والے میڈیکل طالب علم محمد سعد مقبول نے کہا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق شہر میں عمومی طور پر امن تھا اور صرف ایک یا دو دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ان کے بقول، “شہر کے اندر حالات قابو میں تھے اور سفر کے دوران کسی بڑے واقعے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔”
دوسری جانب تہران میں قائم پاکستانی سفارت خانے سے منسلک اسکول کے ایک استاد، جاوید شاد نے حملوں کے ابتدائی لمحات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ صبح تقریباً 10 بج کر 15 منٹ پر تین میزائل داغے گئے، جن کے باعث شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام نے فوری ردعمل دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی، جس سے فضا میں مزید دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ ان کے مطابق ان لمحات میں شہریوں میں خوف ضرور پایا گیا، تاہم بعد ازاں صورتحال کسی حد تک سنبھل گئی۔
تہران کی اہل البیت انٹرنیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک پاکستانی طالب علم ناصر عباس نے بڑے پیمانے پر افراتفری یا مکمل انخلا کی خبروں کو مبالغہ آمیز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں لوگ سڑکوں پر موجود تھے اور معمولاتِ زندگی کسی حد تک جاری تھے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستانی سفارتی عملے نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر طلبہ اور دیگر شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔
اطلاعات کے مطابق 28 فروری سے جاری حملوں میں ایران میں کم از کم 787 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ مختلف صوبوں میں سرکاری و نجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں تہران، اصفہان اور خوزستان شامل ہیں۔ ان حملوں نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، اور کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو احتیاط برتنے یا فوری واپسی کی ہدایات جاری کی ہیں۔
ایرانی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سرحدی راستے بدستور کھلے ہیں اور تفتان کے مقام پر ویزا اجرا کا عمل بھی جاری رکھا گیا ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جن کے سفری دستاویزات مکمل نہیں تھے۔ اس اقدام کو انسانی ہمدردی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے تاکہ غیر ملکی شہری محفوظ طریقے سے اپنے ممالک واپس جا سکیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربِ ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات علاقائی سلامتی، عالمی تیل منڈی اور سفارتی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے اپنے شہریوں کی بروقت اور محفوظ واپسی ایک بڑا انتظامی اور سفارتی امتحان تھا، تاہم حالیہ انخلا کو منظم اور مؤثر اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے ایران میں موجود باقی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قریبی پاکستانی سفارتی مشن سے مسلسل رابطے میں رہیں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے ہیلپ لائن بھی فعال رکھی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

COMMENTS