ملائشیا میں حکام نے عوامی مقامات پر بھیک مانگنے کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 9 افراد کو حراست میں لے لیا جن میں چار غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ مقا...
ملائشیا میں حکام نے عوامی مقامات پر بھیک مانگنے کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 9 افراد کو حراست میں لے لیا جن میں چار غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق یہ کارروائی ریاست پاہانگ کے دارالحکومت کوانتن میں کی گئی جہاں رمضان کے دوران عوامی مقامات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ریاستی سماجی بہبود کے ادارے جباتن کیباجیکان مسیاراکات کی جانب سے ایک خصوصی آپریشن کے دوران کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ آپریشن کے دوران مختلف بازاروں اور بینکوں کے اطراف بھیک مانگنے کی سرگرمیوں پر نظر رکھی گئی۔
حکام کے مطابق یہ آپریشن شام پانچ بجے سے رات دس بجے تک جاری رہا۔ اس دوران شہر کے مصروف مقامات خصوصاً رمضان بازاروں کے اردگرد نگرانی کی گئی۔
آپریشن کے دوران جن علاقوں میں کارروائی کی گئی ان میں بازار رمضان تامن کیرانگ، بازار رمضان سٹیڈیم دارلمخمور اور بازار رمضان تامن تاس شامل ہیں۔ رمضان کے دوران ان مقامات پر بڑی تعداد میں لوگ خریداری کے لیے آتے ہیں جس کی وجہ سے یہ علاقے بھیک مانگنے والوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔
حکام کے مطابق شہر کے مختلف بینکوں کے اطراف بھی نگرانی کی گئی، خاص طور پر جالن بسیراہ اور تامن کیرانگ کے علاقے میں جہاں عوامی رش زیادہ رہتا ہے۔
آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے تمام افراد کو ابتدائی جانچ کے لیے ضلع کوانتن کے سماجی بہبود کے دفتر منتقل کیا گیا جہاں ان کی شناخت اور پس منظر کی جانچ کی گئی۔
حکام کے مطابق ابتدائی اسکریننگ کے بعد چار افراد کو مزید کارروائی کے لیے محکمہ امیگریشن ملائشیا کے حوالے کر دیا گیا کیونکہ ان کی شہریت یا امیگریشن اسٹیٹس کے بارے میں تحقیقات ضروری سمجھی گئی تھیں۔
دوسری جانب پانچ مقامی شہریوں کو ابتدائی تحقیقات کے بعد تنبیہ کے ساتھ رہا کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق ان افراد سے ایک تحریری بیان یا ضمانتی فارم پر دستخط کروائے گئے جس میں انہوں نے آئندہ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عوامی مقامات پر نظم و ضبط برقرار رکھنا اور شہریوں کو پریشانی سے بچانا ہے۔
سماجی بہبود کے حکام کے مطابق ملائیشیا میں عوامی مقامات پر بھیک مانگنے کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ دفعہ 1977 کے تحت ایسے افراد کو "ڈی سٹی ٹیوٹ پرسن" یعنی محتاج شخص قرار دیا جا سکتا ہے جو عوامی جگہوں پر بھیک مانگ کر لوگوں کے لیے پریشانی یا خلل کا باعث بنتے ہیں۔
حکام کے مطابق رمضان کے دوران عوامی مقامات پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے جس کے باعث ایسے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے، اسی لیے متعلقہ ادارے خصوصی آپریشنز کے ذریعے نگرانی بڑھا دیتے ہیں۔
ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ عوامی مقامات پر بھیک مانگنے کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور آئندہ بھی ایسے آپریشن جاری رہیں گے۔ ان کارروائیوں کا مقصد نہ صرف قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے بلکہ معاشرے میں نظم و ضبط اور شہریوں کے تحفظ کو بھی برقرار رکھنا ہے۔
سماجی بہبود کے ادارے کے مطابق حکومت ان افراد کی مدد کے لیے بھی اقدامات کرتی ہے جو واقعی معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں تاکہ انہیں مناسب معاونت فراہم کی جا سکے اور وہ بھیک مانگنے جیسی سرگرمیوں کی طرف مجبور نہ ہوں۔

COMMENTS