کوالالمپور: ملائیشیا میں امیگریشن حکام نے ملک بھر میں کارروائیاں کرتے ہوئے ہزاروں غیر ملکیوں کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر امیگریشن قوانی...
کوالالمپور: ملائیشیا میں امیگریشن حکام نے ملک بھر میں کارروائیاں کرتے ہوئے ہزاروں غیر ملکیوں کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے۔ حکام کے مطابق متعدد افراد نے سوشل وزٹ پاس یا دیگر امیگریشن پاسز کا غلط استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں جاری بیان میں زکریا شعبان، جو محکمہ امیگریشن ملائشیا کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، نے بتایا کہ یکم جنوری سے 9 مارچ تک ملک بھر میں 2,618 امیگریشن آپریشنز کیے گئے۔
ان کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 9,497 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ حکام کے مطابق ان میں سے بڑی تعداد ایسے افراد کی تھی جنہوں نے سوشل وزٹ پاس یا عارضی ورک پاس کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔
امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ 1,158 افراد کو خاص طور پر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے تحت گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسے پاسز استعمال کیے جو مخصوص مقاصد کے لیے جاری کیے گئے تھے، مگر ان افراد نے ان کا استعمال کسی اور سرگرمی کے لیے کیا۔
حکام کے مطابق بعض افراد سیاحتی یا عارضی پاس کے باوجود کاروباری سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے جبکہ کچھ افراد بغیر اجازت ملازمت کرتے ہوئے بھی پکڑے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاس کی شرائط کی خلاف ورزی کے کیسز میں بنگلہ دیش کے شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ اس کے بعد تھائی لینڈ، انڈونیشیا، چین اور پاکستان کے شہری شامل ہیں۔
امیگریشن حکام نے بتایا کہ سوشل وزٹ پاس کے غلط استعمال کے 482 کیسز سامنے آئے۔ ان میں سے 235 افراد تھائی لینڈ سے تعلق رکھتے تھے جبکہ 83 بنگلہ دیشی شہری بھی اس فہرست میں شامل تھے۔ اسی طرح 62 چینی اور 62 انڈونیشی شہری بھی اس خلاف ورزی میں گرفتار کیے گئے۔
حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بعض غیر ملکی شہری غیر قانونی طور پر کاروباری اداروں کے انتظام اور آپریشن میں بھی ملوث تھے حالانکہ ان کے پاس اس قسم کی سرگرمیوں کی اجازت موجود نہیں تھی۔
امیگریشن قوانین کے تحت یہ عمل امیگریشن ریگولیشن 1963 کی شق 39(b) کی خلاف ورزی شمار ہوتا ہے کیونکہ اس میں پاس کی شرائط کے برعکس سرگرمیوں میں حصہ لینا شامل ہے۔
امیگریشن حکام نے واضح کیا کہ ایسے معاملات میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
حکام کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار، مقدمہ درج اور بعد ازاں ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو ایسے غیر ملکی افراد کے بارے میں معلومات ہوں جو غیر قانونی کاروبار یا ملازمت میں ملوث ہوں تو وہ متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مؤثر کارروائی کر سکیں۔
ملائیشیا میں امیگریشن قوانین کے تحت ہر غیر ملکی شہری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پاس کی شرائط پر سختی سے عمل کرے اور اسی مقصد کے لیے ملک میں قیام کرے جس کے لیے پاس جاری کیا گیا ہو۔

COMMENTS