کوالالمپور: ملائیشیا کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امیگریشن حکام نے مختلف ممالک سے آنے والے 99 غیر ملکیوں کو ملک میں داخل ہونے سے روک د...
کوالالمپور: ملائیشیا کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امیگریشن حکام نے مختلف ممالک سے آنے والے 99 غیر ملکیوں کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا۔ حکام کے مطابق ان افراد کو ضروری امیگریشن شرائط پوری نہ کرنے اور مشتبہ سفری ریکارڈ کی بنیاد پر واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ کارروائی ایجنسی کوالان دان پرلندوگان سمپادان (اے کے پی ایس) کی جانب سے کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ (کے ایل آئی اے) ٹرمینل ون پر کی گئی۔ ادارے کے مطابق سیکیورٹی اسکریننگ کے دوران مجموعی طور پر 99 افراد کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
حکام کے مطابق داخلے سے روکے گئے افراد میں 80 بنگلہ دیشی، 10 بھارتی اور 9 پاکستانی شہری شامل تھے۔ تمام افراد مرد تھے اور انہیں امیگریشن قوانین کے مطابق مزید دستاویزی کارروائی کے بعد اپنے اپنے ممالک واپس بھیج دیا گیا۔
اے کے پی ایس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان افراد کو اس لیے روکا گیا کیونکہ وہ ملائیشیا میں داخلے کے لیے مقرر کردہ بنیادی شرائط پوری نہیں کر سکے۔ ان میں بعض افراد کے سفر کا مقصد واضح نہیں تھا جبکہ کچھ کے سفری ریکارڈ میں بھی شکوک و شبہات پائے گئے۔
بیان کے مطابق حکام نے ان افراد سے انفرادی طور پر پوچھ گچھ بھی کی۔ اس دوران ان کے سفری دستاویزات، ویزا، قیام کے مقصد اور پس منظر کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی تاکہ یہ یقین دہانی کی جا سکے کہ وہ ملک میں داخلے کے لیے مقررہ قوانین پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔
حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی ایک خصوصی آپریشن کے دوران کی گئی جو تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہا۔ یہ آپریشن صبح 9 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوا اور اس کی قیادت کے ایل آئی اے ٹرمینل ون کے مانیٹرنگ یونٹ نے کی جبکہ ادارے کے انٹیگریٹی یونٹ نے بھی اس کارروائی میں معاونت فراہم کی۔
اس خصوصی آپریشن کے دوران حکام نے مجموعی طور پر 400 سے زائد مسافروں کی جانچ پڑتال کی۔ اس عمل میں خاص طور پر ایسے مسافروں اور پروازوں کو نشانہ بنایا گیا جنہیں سیکیورٹی کے لحاظ سے زیادہ خطرناک یا مشتبہ سمجھا جاتا ہے۔
اے کے پی ایس کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں ملائیشیا میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین کی سختی سے عملداری کے ذریعے انسانی اسمگلنگ، جعلی دستاویزات کے استعمال اور سوشل وزٹ پاس کے غلط استعمال جیسے مسائل کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امیگریشن حکام ملک کی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً اس نوعیت کے سخت اقدامات جاری رکھیں گے۔ اس مقصد کے لیے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدی مقامات پر نگرانی کے نظام کو بھی مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق ایسے آپریشنز کا مقصد صرف غیر قانونی داخلے کو روکنا ہی نہیں بلکہ ان جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی کرنا بھی ہے جو غیر ملکی شہریوں کو غیر قانونی طریقوں سے ملائیشیا پہنچانے میں ملوث ہوتے ہیں۔
ملائیشیا گزشتہ چند برسوں سے اپنی سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔ اس ضمن میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بائیومیٹرک سسٹم اور خفیہ معلومات کے تبادلے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں داخل ہونے والے تمام غیر ملکیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ درست سفری دستاویزات، واضح مقصد اور قیام کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔ بصورت دیگر انہیں داخلے سے روکا جا سکتا ہے۔

COMMENTS