پوتراجایا: ملائیشیا میں آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر حکومت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ کسی بھی قسم کے اسکیمرز کا شکا...
پوتراجایا: ملائیشیا میں آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر حکومت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ کسی بھی قسم کے اسکیمرز کا شکار ہوں تو فوری طور پر 997 پر کال کریں۔ وزیرِ مواصلات اور حکومتی ترجمان فہمی فاضل نے واضح کیا ہے کہ اب متاثرین کو علیحدہ سے پولیس رپورٹ درج کرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ 997 ہاٹ لائن پر دی گئی اطلاع ہی کافی سمجھی جائے گی۔
انہوں نے بدھ کے روز وزارتِ مواصلات میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ نیشنل اسکیم ریسپانس سینٹر (این ایس آر سی) کی کارروائیاں اب مزید مضبوط کر دی گئی ہیں۔ مرکز میں پولیس افسران اور متعلقہ اداروں کے اہلکار براہِ راست کال وصول کر کے رپورٹ درج کرنے کے مجاز ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ منتقلی اور توسیع کے بعد این ایس آر سی مکمل طور پر فعال ہے اور فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فہمی فاضل نے کہا کہ وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے 4 مارچ کو کابینہ اجلاس کے دوران اس معاملے کو خاص طور پر اٹھایا۔ اس سے قبل وزیرِ اعظم نے 3 مارچ کو سائبرجایا میں قائم ملائشین کمیونیکیشن اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن (ایم سی ایم سی) کے دفتر، مینارا 2 میں این ایس آر سی کا دورہ بھی کیا تھا۔ دورے کے دوران انہیں اس نظام کے بارے میں بریفنگ دی گئی جس کے ذریعے متاثرین کی رقم کے بہاؤ کو مختلف "میول اکاؤنٹس" کی تہوں میں ٹریس کیا جاتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اسکیمرز عموماً متاثرین کی رقوم کو تیزی سے مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کرتے ہیں تاکہ سراغ لگانا مشکل ہو جائے۔ اگر متاثرہ فرد بروقت اطلاع نہ دے تو رقم کی واپسی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے دو حالیہ مثالیں پیش کیں۔
پہلی مثال میں ایک شخص کے ایک ملین رنگٹ میں سے 800 ہزار رنگٹ سے زائد رقم اسکیمرز نے نکال لی۔ یہ واقعہ دوپہر دو بجے پیش آیا، مگر این ایس آر سی کو اطلاع رات دس بجے دی گئی۔ تاخیر کے باعث حکام صرف 170 ہزار رنگٹ ہی بچا سکے۔ فہمی فاضل نے کہا کہ اگر فوری کال کی جاتی تو نقصان کم ہو سکتا تھا۔
دوسری مثال میں متاثرہ شخص نے اسکیمرز کی سرگرمی کا احساس ہوتے ہی فوراً 997 پر کال کی۔ نتیجتاً متعلقہ اداروں نے تقریباً 100 فیصد رقم واپس حاصل کر لی۔ انہوں نے زور دیا کہ وقت ضائع کیے بغیر کال کرنا ہی سب سے مؤثر قدم ہے۔
این ایس آر سی کا آغاز 7 اکتوبر 2022 کو ہوا تھا۔ اس کی قیادت رائل ملائشیا پولیس (پی ڈی آر ایم) کر رہی ہے۔ اس مرکز میں بنک نگارا ملائیشیا، ایم سی ایم سی اور نیشنل اینٹی فائنینشل کرائم سینٹر (این ایف سی سی) بھی شراکت دار ہیں۔ یہ تمام ادارے مل کر مشتبہ لین دین کو منجمد کرنے اور رقم کی واپسی کی کوشش کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق اسکیمرز کی جانب سے استعمال ہونے والے "میول اکاؤنٹس" کی تہیں جتنی زیادہ ہوں، تحقیقات اتنی پیچیدہ ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے ابتدائی چند منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ بینکنگ سسٹم اور نفاذِ قانون کے ادارے مشترکہ طور پر کوشش کرتے ہیں کہ مشکوک ٹرانزیکشنز کو فوری طور پر روکا جائے، مگر اس کے لیے متاثرہ فرد کی فوری اطلاع ضروری ہے۔
فہمی فاضل نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مشتبہ کالز، لنکس یا پیغامات پر یقین نہ کریں اور کسی بھی مالی لین دین سے پہلے تصدیق کریں۔ اگر کوئی خود کو سرکاری افسر ظاہر کرے اور رقم طلب کرے تو فوراً 997 پر رابطہ کیا جائے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عوامی آگاہی مہم کو بھی تیز کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ این ایس آر سی کے کردار سے واقف ہوں۔ متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فراڈ کے متاثرین کو فوری مدد ملے اور مالی نقصان کم سے کم ہو۔

COMMENTS