انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے بالی میں پولیس نے فحش مواد تیار کرنے اور آن لائن پھیلانے کے الزام میں تین غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکا...
انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے بالی میں پولیس نے فحش مواد تیار کرنے اور آن لائن پھیلانے کے الزام میں تین غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد میں دو فرانسیسی اور ایک اطالوی شہری شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مبینہ طور پر فحش مواد دکھایا گیا تھا۔ تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ ملزمان اس قسم کا مواد بنا کر آن لائن شیئر کر رہے تھے اور اس سے مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ضلع بادونگ کے پولیس چیف جوزف ایڈورڈ پوربا نے بتایا کہ دو مرد اور ایک خاتون کو مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا۔ فرانسیسی خاتون اور اطالوی شہری کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ تھائی لینڈ جانے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ ایک اور فرانسیسی شخص کو بادونگ سے گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان پر فحش مواد تیار کرنے کے جرم میں 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ آن لائن اس مواد کی ترسیل کے لیے مزید 6 سال کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
انڈونیشیا ایک ایسا ملک ہے جہاں فحش مواد کی تیاری اور تقسیم پر سخت پابندی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ملک کی اکثریت مسلمان ہے۔ تاہم بالی ایک سیاحتی مرکز ہے جہاں ہر سال لاکھوں غیر ملکی سیاح آتے ہیں، جس کے باعث حکام کو بعض اوقات غیر مناسب رویوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
حکام نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کچھ غیر ملکی سیاح مقامی قوانین اور ثقافت کا احترام نہیں کرتے۔ گزشتہ سال بھی ایک برطانوی بالغ فلم اسٹار کو اسی نوعیت کی تحقیقات کے دوران جزیرے سے بے دخل کیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس تازہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی شخص انڈونیشیا میں قوانین کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
مزید برآں، حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس اس واقعے سے متعلق معلومات ہوں تو وہ پولیس سے رابطہ کریں تاکہ تحقیقات میں مدد مل سکے۔

COMMENTS