ملائیشیا کے علاقے بالک پولاو میں دو فیکٹریوں کو ملازمین اور عوام کی حفاظت یقینی نہ بنانے پر مجموعی طور پر 70 ہزار رنگٹ جرمانہ عائد کر دیا گی...
ملائیشیا کے علاقے بالک پولاو میں دو فیکٹریوں کو ملازمین اور عوام کی حفاظت یقینی نہ بنانے پر مجموعی طور پر 70 ہزار رنگٹ جرمانہ عائد کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ سیشنز کریمنل کورٹ نے سنایا، جہاں دونوں کمپنیوں نے اپنے خلاف عائد الزامات کو تسلیم کر لیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران جج احزل فریز احمد خیرالدین نے دونوں کیسز میں الگ الگ فیصلے سنائے۔ یہ مقدمات محکمہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ پینانگ کی جانب سے دائر کیے گئے تھے، جن میں کمپنیوں پر کام کے دوران حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔
پہلے کیس میں ایک کمپنی کو 35 ہزار رنگٹ جرمانہ کیا گیا۔ کمپنی پر الزام تھا کہ اس نے اپنے آپریشن کے دوران عوام اور دیگر افراد کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا۔ تحقیقات کے مطابق کمپنی کی جانب سے استعمال ہونے والی “ریچ ٹرک” مشین میں ضروری حفاظتی آلات نصب نہیں تھے۔ ان میں سائیڈ مررز، بیزر (الارم) اور فلیش لائٹ شامل تھے۔
حکام کے مطابق ان حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس میں ایک شخص شدید زخمی ہو گیا اور مستقل معذوری کا شکار ہو گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کرنے کے نتائج کتنے سنگین ہو سکتے ہیں۔
دوسرے کیس میں بھی ایک اور فیکٹری کو 35 ہزار رنگٹ جرمانہ کیا گیا۔ اس کمپنی پر اپنے ملازمین کے لیے محفوظ ماحول فراہم نہ کرنے کا الزام تھا۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی نے “مینول اوورہیڈ ٹریولنگ کرین” کے آپریشن کے لیے کوئی محفوظ ورک پروسیجر تیار نہیں کیا تھا۔
یہ غفلت ایک حادثے کا سبب بنی جس میں ایک غیر ملکی کارکن زخمی ہوا۔ یہ واقعہ گزشتہ سال 3 جون کو صبح ساڑھے آٹھ بجے پیش آیا تھا۔ حکام نے کہا کہ اگر کمپنی مناسب حفاظتی ہدایات اور تربیت فراہم کرتی تو اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔
محکمہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایسے کیسز میں قانون کے تحت سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ 1994 کے سیکشن 15 اور 17 کے تحت قصوروار افراد کو زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ رنگٹ جرمانہ یا دو سال قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
حکام نے مزید کہا کہ تمام کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملازمین اور عوام دونوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کریں۔ اس کے لیے نہ صرف مشینری کو محفوظ بنانا ضروری ہے بلکہ کام کے واضح اور محفوظ طریقہ کار بھی تیار کرنا لازمی ہے۔
ماہرین کے مطابق صنعتی شعبے میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت نگرانی اور قوانین پر عمل درآمد بہت ضروری ہے۔ اگر کمپنیاں حفاظتی اصولوں کو سنجیدگی سے لیں تو نہ صرف حادثات میں کمی آ سکتی ہے بلکہ کارکنوں کا اعتماد بھی بحال رہتا ہے۔

COMMENTS