کوالالمپور: عیدالفطر کی آمد کے باوجود ملائیشیا میں مقیم غیر ملکی کارکن آج بھی اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ گھروں سے دور رہ...
کوالالمپور: عیدالفطر کی آمد کے باوجود ملائیشیا میں مقیم غیر ملکی کارکن آج بھی اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ گھروں سے دور رہ کر عید منانا ان کے لیے جذباتی طور پر مشکل ضرور ہے، لیکن معاشی مجبوریوں اور کام کی ذمہ داریوں کے باعث وہ اس موقع پر بھی کام جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، عید کی آمد کے ساتھ ہی جہاں مقامی افراد اپنے گھروں کو لوٹنے یا خریداری میں مصروف ہیں، وہیں غیر ملکی کارکن خاص طور پر دکانوں، چھوٹے کاروبار اور خدمات کے شعبوں میں بدستور کام کرتے نظر آتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر افراد انڈونیشیا، بنگلہ دیش، پاکستان اور دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
ایک انڈونیشین شہری ذوال حلمی عبدالقادر، جو گزشتہ چار سال سے ملائیشیا میں مقیم ہیں، نے بتایا کہ وہ طویل عرصے سے عید اپنے وطن میں نہیں منا سکے۔ ان کے مطابق، مالی حالات اور سفر کے اخراجات ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دل اپنے گھر والوں کے پاس جانے کو چاہتا ہے، لیکن وہ اپنے خاندان کی کفالت کے لیے یہاں کام کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ عید کی تیاری سادہ انداز میں کرتے ہیں اور اپنی استطاعت کے مطابق خریداری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر عید مناتے ہیں، جو ان کے لیے کسی حد تک خاندان کا نعم البدل بن جاتے ہیں۔
اسی طرح دیگر غیر ملکی کارکن بھی عید کے موقع پر کام جاری رکھتے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جو خوردہ دکانوں، خوراک کے کاروبار اور دیگر خدمات میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق، عید کے دنوں میں کاروبار میں اضافہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں مزید محنت کرنا پڑتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کئی غیر ملکی کارکن کرائے کے کمروں میں رہتے ہیں اور محدود وسائل کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے باوجود وہ عید کے موقع پر خوشی منانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے اہل خانہ کو مالی مدد فراہم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ذوال حلمی نے کہا کہ ملائیشیا میں کام کرنے سے انہیں اپنے خاندان کی بہتر مدد کرنے کا موقع ملا ہے، کیونکہ ملائیشین رنگٹ کی قدر ان کے ملک کی کرنسی کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس سے انہیں رقم بھیجنے میں فائدہ ہوتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ وہ عید کے موقع پر اپنے خاندان سے دور ہوتے ہیں، لیکن وہ اس بات پر شکر گزار ہیں کہ انہیں روزگار کا موقع ملا ہے اور وہ اپنے پیاروں کی مدد کر سکتے ہیں۔

COMMENTS