ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی حمایت اور یکجہتی پر شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے یہ اظہار ایک سوشل میڈیا پیغام میں کیا جس میں ان...
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی حمایت اور یکجہتی پر شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے یہ اظہار ایک سوشل میڈیا پیغام میں کیا جس میں انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کے موقف پر پاکستان کے تعاون کو سراہا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ پاکستان کی حکومت اور عوام کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب پاکستان کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر نے بحفاظت آبنائے ہرمز کو عبور کیا۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ آئل ٹینکر “کراچی” کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس میں خام تیل لدا ہوا تھا۔
جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنے والے ڈیٹا کے مطابق یہ ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بعد پاکستان کی جانب روانہ ہو گیا۔ پیر کی صبح اسے عمان کے شہر صحار کے قریب سمندری حدود میں دیکھا گیا۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی سطح پر بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے اس علاقے کی صورتحال عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے مارچ کے آغاز سے اس اہم سمندری راستے کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ان حملوں کے نتیجے میں تقریباً 1300 افراد کے جاں بحق ہونے کی رپورٹس سامنے آئیں جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں ڈرون اور میزائل حملے کیے۔ رپورٹس کے مطابق یہ حملے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں موجود بعض امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال خاص طور پر عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے اہم سمجھی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سمندری راستے سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
ایران کی جانب سے پاکستان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان خطے میں جاری سفارتی اور سیاسی صورتحال کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے اور اس حوالے سے اپنے اتحادیوں کی حمایت کو سراہتا ہے۔

COMMENTS