ملائیشیا میں امیگریشن حکام نے غیر ملکیوں کی جانب سے سوشل وزٹ پاس کے غلط استعمال کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق ایسے اف...
ملائیشیا میں امیگریشن حکام نے غیر ملکیوں کی جانب سے سوشل وزٹ پاس کے غلط استعمال کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق ایسے افراد کے خلاف ملک بھر میں مسلسل آپریشن کیے جا رہے ہیں جو وزٹ پاس پر آ کر غیر قانونی طور پر ملازمت کر رہے ہیں۔
یہ کارروائیاں محکمہ امیگریشن ملائشیا کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔ محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ ملک میں امیگریشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے نفاذی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق یکم جنوری سے 9 مارچ 2026 کے دوران پورے ملک میں مجموعی طور پر 2,618 نفاذی آپریشنز کیے گئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد غیر قانونی ملازمت، ویزا کی خلاف ورزی اور دیگر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنا تھا۔
ان آپریشنز کے دوران حکام نے مختلف امیگریشن جرائم میں ملوث 9,497 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا۔ امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں ملک کے مختلف شہروں اور ریاستوں میں کیے گئے مشترکہ آپریشنز کے دوران عمل میں آئیں۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد پر مختلف نوعیت کی امیگریشن خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں۔ ان میں ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام، بغیر اجازت ملازمت اور سوشل وزٹ پاس کا غلط استعمال شامل ہے۔
محکمہ امیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق ان گرفتار افراد میں سے 1,158 افراد کو خاص طور پر ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ یہ کارروائیاں امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت کی گئیں۔
امیگریشن حکام کے مطابق ان افراد کو ریگولیشن 39(b) کے تحت گرفتار کیا گیا جو ویزا یا پاس کی شرائط کی خلاف ورزی سے متعلق ہے۔
مزید تفصیلات کے مطابق ان 1,158 افراد میں سے 482 افراد کو خاص طور پر سوشل وزٹ پاس کے غلط استعمال پر گرفتار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد سیاحتی یا عارضی وزٹ پاس پر ملائیشیا آئے تھے لیکن بعد میں غیر قانونی طور پر ملازمت میں مصروف پائے گئے۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ سوشل وزٹ پاس بنیادی طور پر سیاحت، مختصر مدت کے دورے یا ذاتی ملاقاتوں کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ اس پاس کے تحت کسی بھی قسم کی ملازمت یا کاروباری سرگرمی کی اجازت نہیں ہوتی۔
حکام کے مطابق بعض غیر ملکی افراد اس پاس کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر کام کرتے ہیں جس سے نہ صرف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ لیبر قوانین اور ملکی نظام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
امیگریشن حکام نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں کسی بھی فرد یا ادارے کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ جو بھی شخص امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پایا جائے گا اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مختلف اقدامات کیے جا سکتے ہیں جن میں گرفتاری، عدالت میں مقدمہ اور ملک بدر کرنا شامل ہے۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ ملک بدر کیے جانے والے افراد کو عام طور پر امیگریشن سسٹم میں بلیک لسٹ بھی کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں انہیں مقررہ مدت تک دوبارہ ملائیشیا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ملک کی سلامتی، قانون کی حکمرانی اور امیگریشن نظام کی شفافیت کو برقرار رکھنا ہے۔
حکام کے مطابق ایسے نفاذی آپریشنز آئندہ بھی جاری رہیں گے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے اور امیگریشن قوانین کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ امیگریشن نے عوام اور کاروباری اداروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ امیگریشن قوانین کا احترام کریں اور غیر قانونی ملازمت یا غیر مجاز غیر ملکی کارکنوں کو رکھنے سے گریز کریں۔

COMMENTS