ریاست جوہر میں امیگریشن حکام نے مارچ 2026 کے دوسرے ہفتے کے دوران مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 131 غیر ملکی قیدیوں کو ان کے آبائی ممالک واپ...
ریاست جوہر میں امیگریشن حکام نے مارچ 2026 کے دوسرے ہفتے کے دوران مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 131 غیر ملکی قیدیوں کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا۔ یہ کارروائی عیدالفطر سے قبل امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کے تحت کی گئی۔
یہ اقدام محکمہ امیگریشن ملائشیا کے تحت پیکان نناس میں واقع امیگریشن ڈیپو سے کیا گیا جہاں زیر حراست غیر ملکیوں کو قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مرحلہ وار اپنے ممالک بھیجا گیا۔
حکام کے مطابق ان 131 افراد میں مختلف ممالک کے شہری شامل تھے۔ ان میں 70 افراد انڈونیشیا کے شہری تھے جبکہ 29 افراد پاکستان سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی طرح 9 افراد بھارت، 8 افراد سری لنکا، 4 افراد بنگلہ دیش، 4 افراد تھائی لینڈ، 2 افراد نیپال، 2 افراد چین، 2 افراد کمبوڈیا اور 1 فرد فلپائن کا شہری تھا۔
امیگریشن حکام نے بتایا کہ تمام افراد کو قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مختلف سرحدی راستوں اور ہوائی اڈوں کے ذریعے ان کے ممالک واپس بھیجا گیا۔ اس عمل میں ملائیشیا کے کئی بین الاقوامی سفری پوائنٹس استعمال کیے گئے۔
ان میں کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 1 اور 2 شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست جوہر میں واقع سینائی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، پاسر گودانگ فیری ٹرمینل اور سرحدی چیک پوائنٹ رنتاؤ پنجانگ کے ذریعے بھی غیر ملکیوں کو روانہ کیا گیا۔
امیگریشن حکام کے مطابق ان افراد کی واپسی کے اخراجات مختلف ذرائع سے پورے کیے گئے۔ بعض قیدیوں نے اپنے ذاتی وسائل سے واپسی کے ٹکٹ خریدے جبکہ کچھ معاملات میں ان کے خاندان کے افراد نے مالی مدد فراہم کی۔
کچھ کیسز ایسے بھی تھے جن میں متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کے لیے واپسی کے ہوائی ٹکٹ کا انتظام کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں سفارتی تعاون اہم کردار ادا کرتا ہے تاکہ زیر حراست افراد کو جلد از جلد ان کے ممالک واپس بھیجا جا سکے۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا کہ جن افراد کو ملک بدر کیا گیا ہے انہیں محکمہ کے سسٹم میں بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان افراد کو مقررہ مدت تک کسی بھی مقصد کے لیے دوبارہ ملائیشیا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکام کے مطابق بلیک لسٹ کی مدت ہر کیس کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ متعلقہ فرد نے امیگریشن قوانین کی کس نوعیت کی خلاف ورزی کی تھی۔
امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کو ان کے ممالک واپس بھیجنا امیگریشن ڈیٹینشن ڈپو پیکان نیناس کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس عمل کو باقاعدگی سے جاری رکھا جاتا ہے تاکہ ایسے افراد جو اپنی سزا مکمل کر چکے ہیں انہیں ملک میں مزید قیام کی اجازت نہ دی جائے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ بھی ہے کہ ڈپو میں غیر ضروری طور پر قیدیوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہو اور امیگریشن قوانین کے مطابق تمام کارروائیاں بروقت مکمل کی جا سکیں۔
محکمہ امیگریشن جوہر نے یہ بھی بتایا کہ جن خاندانوں یا افراد کو کسی قیدی کی واپسی سے متعلق معلومات درکار ہوں وہ براہ راست ڈیپو امیگریشن پیکان نناس میں قائم سروس کاؤنٹر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق قیدیوں کی واپسی کے عمل میں ٹکٹ خریدنے یا دیگر انتظامات کے لیے جو خدمات فراہم کی جاتی ہیں ان پر کوئی اضافی سروس چارج نہیں لیا جاتا۔ اس مقصد کے لیے خصوصی کاؤنٹر قائم کیا گیا ہے جہاں تمام معاملات شفاف طریقے سے انجام دیے جاتے ہیں۔
مزید معلومات کے لیے متعلقہ افراد ریکارڈ اور ٹرانسفر یونٹ سے براہ راست رابطہ بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے آن لائن انکوائری سسٹم بھی فراہم کیا ہے جہاں لوگ اپنی درخواست یا سوال جمع کرا سکتے ہیں۔
امیگریشن حکام نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم افراد کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور سرحدی نظام کو منظم رکھنا ہے۔

COMMENTS