کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیرِاعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ملک تیل پیدا کرنے والا ہونے کے باوجود عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں سے متاثر ...
کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیرِاعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ملک تیل پیدا کرنے والا ہونے کے باوجود عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں سے متاثر ہو رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ درآمد شدہ ریفائنڈ پیٹرولیم پر انحصار اور عالمی سپلائی میں رکاوٹ ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد، عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال نے سپلائی کو محدود کر دیا ہے جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق آبنائے ہرمز میں رکاوٹ اس بحران کی ایک اہم وجہ ہے۔ یہ راستہ دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے اور عالمی سپلائی کا بڑا حصہ اسی کے ذریعے گزرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب اس اہم راستے میں خلل آتا ہے تو تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے اور قیمتیں تیزی سے بڑھ جاتی ہیں۔ ملائیشیا بھی اس سے متاثر ہوتا ہے کیونکہ ملک کی تقریباً 50 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے آتی ہے۔
انور ابراہیم نے مزید بتایا کہ اگرچہ ملائیشیا تیل پیدا کرتا ہے، لیکن حقیقت میں ملک اپنی ضرورت سے زیادہ تیل درآمد کرتا ہے۔ اسی لیے عالمی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ملکی معیشت اور عوامی اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سپلائی میں کمی کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کا اثر گھریلو سطح پر بھی پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے کاروبار اور عوام دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایندھن سبسڈی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق چند ہی دنوں میں سبسڈی کی رقم تقریباً 700 ملین رنگٹ سے بڑھا کر 3.2 ارب رنگٹ کر دی گئی ہے تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ “بودی مدنی رون 95” اور “بودی ڈیزل” جیسے پروگرامز کے ذریعے عوام اور زیادہ تر کاروباروں کو مکمل مارکیٹ قیمتوں کے اثرات سے بچایا جا رہا ہے۔
انور ابراہیم نے کہا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کے باوجود حکومت عوام کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے باوجود رون 95 پیٹرول کی سبسڈی شدہ قیمت 1.99 رنگٹ فی لیٹر برقرار رکھی جائے گی، تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی توانائی منڈی میں ہونے والی تبدیلیاں تیل پیدا کرنے والے ممالک کو بھی متاثر کر سکتی ہیں، خاص طور پر جب وہ درآمد شدہ مصنوعات پر انحصار کرتے ہوں۔

COMMENTS