ملائیشیا کی وزارت صحت نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس دعوے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ غیر ملکی شہری سرکاری اسپتالوں...
ملائیشیا کی وزارت صحت نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس دعوے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ غیر ملکی شہری سرکاری اسپتالوں میں بغیر کسی فیس کے علاج حاصل کر سکتے ہیں۔
وزیر صحت ذوالکفلی احمد نے کہا کہ وزارت صحت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے تاہم اب تک اس دعوے کی سچائی کی تصدیق نہیں ہو سکی اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے یہ بات پتراجایا میں “کیمبارا بریایا برسمہ چک ایرا” پروگرام اور کے کے ایم کے اے آئی اسسٹنٹ کے اجرا کی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ بعض غیر ملکی افراد اگر یہ کہیں کہ ان کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے تو وہ صرف فارم بھر کر سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج حاصل کر سکتے ہیں۔
آن لائن صارفین کے مطابق اس طریقے سے وہ اس فیس سے بچ جاتے ہیں جو عام طور پر تقریباً 2,800 رنگٹ تک ہوتی ہے۔
اس دعوے کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ افراد نے یہ بھی تجویز دی کہ سرکاری اسپتالوں میں امیگریشن افسران تعینات کیے جائیں تاکہ اس مسئلے کو روکا جا سکے۔
وزیر صحت نے واضح کیا کہ سرکاری اسپتالوں میں داخل ہونے والے تمام غیر ملکی مریضوں کو ڈپازٹ ادا کرنا لازمی ہوتا ہے۔
ان کے مطابق:
عام طبی علاج کے لیے تیسرے درجے کے وارڈ میں داخلے کا ڈپازٹ 1,400 رنگٹ ہے۔
سرجری یا آپریشن (مثلاً سیزیرین) کے لیے ڈپازٹ 2,800 رنگٹ تک ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ رقم مریض کے وارڈ میں داخل ہونے سے پہلے ادا کرنا لازمی ہے اور یہ ایک معیاری آپریٹنگ طریقہ کار ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔
وزیر صحت کے مطابق یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے والے افراد کو ڈپازٹ پر 50 فیصد رعایت دی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ جن غیر ملکی کارکنوں کے پاس خصوصی انشورنس برائے غیر ملکی ورکرز یا دیگر طبی انشورنس اسکیم موجود ہوتی ہے، ان کے علاج کے اخراجات انشورنس کے ذریعے ادا کیے جاتے ہیں۔ تاہم اگر اخراجات انشورنس کی حد سے زیادہ ہوں تو باقی رقم مریض کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
وزیر صحت نے وضاحت کی کہ لامپیران اے فارم صرف ہنگامی حالات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ فارم اس وقت استعمال ہوتا ہے جب مریض کی جان کو خطرہ ہو اور فوری علاج ضروری ہو۔ ایسے حالات میں اسپتال پہلے مریض کو ایمرجنسی اور ٹراما ڈیپارٹمنٹ میں علاج فراہم کرتا ہے اور ڈپازٹ کی ادائیگی بعد میں لی جاتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ فارم ادائیگی سے استثنا نہیں بلکہ صرف ادائیگی میں تاخیر کی اجازت دیتا ہے۔
وزارت صحت کے مطابق وزیر صحت نے ہیلتھ ڈائریکٹر جنرل اور وزارت کے اعلیٰ حکام کو ہدایت دی ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی رپورٹ کا مکمل جائزہ لیا جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔

COMMENTS