ملائیشیا کے اسٹریٹجک جغرافیائی مقام اور غیر ملکی مزدوروں پر بڑھتے ہوئے انحصار کے باعث ملک میں انسانی اسمگلنگ کا مسئلہ برقرار ہے۔ انسانی حقوق...
ملائیشیا کے اسٹریٹجک جغرافیائی مقام اور غیر ملکی مزدوروں پر بڑھتے ہوئے انحصار کے باعث ملک میں انسانی اسمگلنگ کا مسئلہ برقرار ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں عوامل ملائیشیا کو انسانی اسمگلنگ کے لیے ایک اہم راستہ اور منزل بنا رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار مختلف غیر سرکاری تنظیموں نے کیا جن کے مطابق ملائیشیا کی جغرافیائی پوزیشن اسے جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک کے درمیان ایک اہم مقام بناتی ہے۔ اسی وجہ سے مختلف ممالک سے آنے والے تارکین وطن یہاں روزگار کے مواقع تلاش کرنے آتے ہیں یا بعض اوقات غیر قانونی طریقوں سے ملک میں داخل ہو جاتے ہیں۔
تنظیم ٹیناگانیتا کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر گلو رین داس نے کہا کہ ملائیشیا کی جغرافیائی پوزیشن ایسی ہے کہ انڈونیشیا، بنگلہ دیش، نیپال، فلپائن اور میانمار جیسے ممالک کے شہری آسانی سے یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی صورتحال بعض اسمگلنگ نیٹ ورکس کے لیے بھی مواقع پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ملائیشیا صرف منزل نہیں بلکہ ایک ٹرانزٹ پوائنٹ بھی بن جاتا ہے جہاں سے متاثرین کو مزید آگے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کی طرف منتقل کیا جاتا ہے۔
گلو رین داس کے مطابق ملائیشیا کے کئی صنعتی شعبے غیر ملکی مزدوروں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ ان شعبوں میں خاص طور پر مینوفیکچرنگ، تعمیرات، شجرکاری اور گھریلو ملازمتیں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مزدوروں کی بھرتی کے پیچیدہ نظام کو بعض عناصر اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اکثر تارکین وطن مختلف ایجنٹس اور سب ایجنٹس کے پیچیدہ نیٹ ورک کے ذریعے ملائیشیا پہنچتے ہیں۔ ان ایجنٹس کی جانب سے بعض اوقات بھاری فیس وصول کی جاتی ہے، جھوٹے وعدے کیے جاتے ہیں یا معاہدوں کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح مزدور اکثر روزگار شروع کرنے سے پہلے ہی قرض کے بوجھ میں پھنس جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غریب ممالک سے آنے والے مزدور اکثر استحصال کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ان میں جبری مشقت، دھمکیوں اور قرض کے جال میں پھنسنے جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ مزید یہ کہ بہت سے متاثرہ افراد شکایت کرنے سے اس لیے بھی گھبراتے ہیں کہ کہیں انہیں گرفتار نہ کر لیا جائے، ملک بدر نہ کر دیا جائے یا ان کی ملازمت ختم نہ ہو جائے۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے گزشتہ ہفتے انکشاف کیا تھا کہ سوسما قانون کے تحت گرفتار ہونے والے 4 ہزار 869 افراد انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن کی غیر قانونی اسمگلنگ سے متعلق کیسز میں ملوث تھے۔
اسی طرح گزشتہ سال جاری ہونے والی ٹریفکنگ اِن پرسنز رپورٹ میں ملائیشیا کو ٹئیر 2 کی درجہ بندی دی گئی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے مقرر کردہ کم از کم عالمی معیار کو مکمل طور پر پورا نہیں کر سکا۔
دوسری انسانی حقوق کی تنظیم فورٹیفائی رائٹس کے نمائندے یاپ لے شینگ نے بھی اسی موقف کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کی معیشت کے کئی شعبے غیر ملکی مزدوروں پر چلتے ہیں، خاص طور پر مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر میں ان کا کردار اہم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات پڑوسی ممالک میں جاری تنازعات اور قدرتی آفات بھی لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں بہت سے افراد محفوظ پناہ کی تلاش میں ملائیشیا کا رخ کرتے ہیں۔
یاپ لے شینگ کے مطابق ملائیشیا کی جغرافیائی قربت ایسے خطوں سے ہے جہاں تنازعات یا عدم استحکام پایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض پناہ گزین اور متاثرہ افراد یہاں پہنچ جاتے ہیں تاکہ وہ جنگ یا ظلم و ستم سے محفوظ رہ سکیں۔
ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ملائیشین حکام پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کو پہچاننے اور ان کی حفاظت کے لیے واضح اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز تیار کریں۔
تنظیم کے ایشیا ریسرچر شینا باؤخنر کا کہنا ہے کہ بعض اوقات متاثرین کو غیر قانونی تارکین وطن سمجھ کر حراست میں لے لیا جاتا ہے جبکہ اصل میں وہ انسانی اسمگلنگ کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں متاثرین کو مجرم کے بجائے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب متاثرین کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا سمجھ کر گرفتار کیا جاتا ہے تو وہ حکام کے ساتھ تعاون کرنے سے بھی ہچکچاتے ہیں۔ اس سے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
اسی تناظر میں گزشتہ سال لنکاوی کے قریب ایک کشتی حادثے کا واقعہ بھی مثال کے طور پر پیش کیا گیا جس میں بچ جانے والے افراد کو بعد میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کافی نہیں بلکہ بھرتی کے نظام، مزدوروں کے حقوق اور تحفظ کے طریقہ کار کو بھی بہتر بنانا ضروری ہے۔
ان تنظیموں کے مطابق اگر متاثرین کو مناسب تحفظ اور قانونی مدد فراہم کی جائے تو وہ حکام کے ساتھ زیادہ تعاون کریں گے، جس سے اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

COMMENTS