ملائیشیا کے علاقے باؤ میں ایک 32 سالہ مقامی شخص کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب اس نے مبینہ طور پر رائل ملائیشین پولیس کی ایک گاڑی کا شیشہ تو...
ملائیشیا کے علاقے باؤ میں ایک 32 سالہ مقامی شخص کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب اس نے مبینہ طور پر رائل ملائیشین پولیس کی ایک گاڑی کا شیشہ توڑ دیا۔ پولیس کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات تعزیراتِ ملائیشیا کی دفعہ 427 کے تحت کی جا رہی ہیں، جو املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے۔
باؤ ضلع کے پولیس چیف اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ محمد حیدہ اے رحمان نے بتایا کہ مشتبہ شخص کو ہفتہ کے روز دوپہر تقریباً 3 بجے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری باؤ ضلع پولیس ہیڈکوارٹر کے کرمنل انویسٹی گیشن ڈویژن کے افسران نے کی۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ایک ہتھوڑا بھی قبضے میں لیا گیا جس کے ہینڈل کو سیاہ پی وی سی پائپ کے ساتھ تبدیل کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہی ہتھوڑا مبینہ طور پر پولیس گاڑی کے شیشے کو توڑنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے دوران مشتبہ شخص نے بتایا کہ اس نے جان بوجھ کر پولیس گاڑی کا شیشہ توڑا تاکہ اسے گرفتار کر لیا جائے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ کئی برسوں سے وہم یا فریبِ نظر کا شکار ہے اور اسے یہ احساس ہوتا رہا کہ پولیس اس کی نگرانی کر رہی ہے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ مشتبہ شخص کا پیشاب ٹیسٹ نارکوٹکس ڈویژن کی جانب سے کیا گیا جس میں منشیات کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس کے علاوہ مزید ریکارڈ کی جانچ کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ اس شخص کا اس سے پہلے کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
حکام کے مطابق کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آ سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عوامی املاک کو نقصان پہنچانا ایک جرم ہے اور اس حوالے سے قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔ اسی لیے اس کیس میں بھی قانونی طریقہ کار کے مطابق تفتیش جاری رکھی جائے گی۔
حکام نے مزید کہا کہ ایسے واقعات میں پولیس نہ صرف قانونی پہلوؤں کو دیکھتی ہے بلکہ مشتبہ افراد کی حالت اور پس منظر کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں سے بھی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
اس واقعے کے بعد پولیس نے شہریوں کو یاد دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جائے۔ حکام کے مطابق کسی بھی غیر معمولی رویے یا صورتحال میں فوری طور پر پولیس یا متعلقہ حکام کو اطلاع دینا بہتر اقدام ہوتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس میں مزید معلومات سامنے آنے کے بعد قانونی کارروائی کے اگلے مراحل طے کیے جائیں گے۔

COMMENTS