انڈونیشیا کے شہر بندا آچے میں امیگریشن حکام نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو ملک بدر کر دیا۔ یہ کارروائی امیگریشن قوانین کی خلاف ...
انڈونیشیا کے شہر بندا آچے میں امیگریشن حکام نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو ملک بدر کر دیا۔ یہ کارروائی امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے بعد عمل میں لائی گئی۔
حکام کے مطابق، پاکستانی شہری جس کی شناخت آئی اے کے نام سے ہوئی، اسے اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ساتھ اتوار 15 مارچ 2026 کو باضابطہ طور پر ڈی پورٹ کیا گیا۔ یہ کارروائی کوالانامو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے مکمل کی گئی۔
امیگریشن آفس کے انٹیلی جنس اور نفاذ شعبے کے افسر رودیانتو گیرسنگ نے بتایا کہ یہ فیصلہ 13 مارچ 2026 کو جاری کیے گئے ایک سرکاری حکم نامے کے تحت کیا گیا۔ ان کے مطابق، یہ اقدام ان غیر ملکی شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حصہ ہے جو انڈونیشیا میں اپنے قیام کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق، یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب 26 اور 27 فروری 2026 کو بندا آچے کے علاقے جیولنگکے میں امیگریشن انٹیلی جنس آپریشن کیا گیا۔ اس دوران متعلقہ شخص اور اس کے خاندان سے پوچھ گچھ کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ مذکورہ خاندان کا محدود قیام کا اجازت نامہ (آئی ٹی اے ایس) 24 فروری 2026 کو ختم ہو چکا تھا، جس کے بعد وہ غیر قانونی طور پر انڈونیشیا میں مقیم تھے۔ اس کے علاوہ، تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ویزا اور قیام کی دستاویزات حاصل کرنے کے دوران غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں۔
ان خلاف ورزیوں کی بنیاد پر امیگریشن حکام نے نہ صرف خاندان کو ڈی پورٹ کیا بلکہ ان پر دوبارہ انڈونیشیا میں داخلے پر پابندی بھی عائد کر دی۔ یہ کارروائی انڈونیشیا کے امیگریشن قانون 2011 کے تحت کی گئی۔
ڈی پورٹیشن کا عمل سخت سیکیورٹی میں مکمل کیا گیا۔ امیگریشن افسران نے خاندان کو بندا آچے سے شمالی سماترا منتقل کیا، جہاں سے انہیں ایئر ایشیا کی پرواز کے ذریعے پہلے کوالالمپور بھیجا گیا، اور بعد ازاں دوسری پرواز کے ذریعے کراچی روانہ کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار میں غیر ملکی شہریوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے اقدامات مزید سخت کریں گے تاکہ ملکی قوانین کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
امیگریشن حکام نے واضح کیا کہ انڈونیشیا میں مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے قیام کے قوانین پر سختی سے عمل کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف بھی اسی طرح کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

COMMENTS