ریاست صباح کے شہر کوتا کینابالو میں ایک شاپنگ مال میں منعقدہ خیراتی پروگرام کے دوران ایک طالب علم کی گرفتاری پر ایک غیر سرکاری تنظیم نے سخت ...
ریاست صباح کے شہر کوتا کینابالو میں ایک شاپنگ مال میں منعقدہ خیراتی پروگرام کے دوران ایک طالب علم کی گرفتاری پر ایک غیر سرکاری تنظیم نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم مندیری نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم عمر طالب علم کی حراست تشویش کا باعث ہے۔
تنظیم کے مطابق نوجوان طالب علم کو ایک خیراتی پروگرام کے دوران گرفتار کیا گیا اور اسے ہتھکڑی لگا کر پولیس ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے دوران واضح طور پر وجہ نہیں بتائی گئی جس پر اس واقعے کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مندیری کے پروگرام آفیسر وونگ کوینگ ہوئی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بات تشویش ناک ہے کہ طالب علم کو حراست میں لے کر لاک اپ میں رکھا گیا جبکہ اسے اپنے خاندان سے رابطہ کرنے یا قانونی مدد حاصل کرنے کا بنیادی حق بھی نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کسی کم عمر بچے کو اس طرح حراست میں لینا انسانی بنیادوں کے خلاف ہے اور یہ اقدام بچوں کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کے اصولوں سے بھی متصادم ہو سکتا ہے۔
اس واقعے کی تفصیل ایک فیس بک پوسٹ کے ذریعے سامنے آئی جس میں طالب علم کے استاد صابر شریف الدین نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب طلبہ رمضان کے دوران ایک فلاحی سرگرمی کے لیے شاپنگ مال میں موجود تھے۔
استاد کے مطابق طالب علم کو دوپہر تقریباً دو بجے اس وقت حراست میں لیا گیا جب طلبہ اس پروگرام میں شریک تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پولیس کو پروگرام کے اجازت نامے کی دستاویز بھی دکھانے کی کوشش کی تاہم ان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے اس وضاحت کو قبول نہیں کیا اور انہیں پولیس ہیڈکوارٹر جانے کا کہا۔
صابر شریف الدین نے بتایا کہ وہ بعد میں پولیس اسٹیشن گئے جہاں انہوں نے طالب علم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق انہیں پہلے قانونی دفتر جانے کو کہا گیا اور بعد میں دوبارہ لابی میں انتظار کرنے کا کہا گیا۔
انہوں نے کہا کہ شام تقریباً چھ بج کر پانچ منٹ پر انہیں اطلاع ملی کہ طالب علم کو لاک اپ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس اطلاع کے بعد انہوں نے پولیس سے درخواست کی کہ انہیں طالب علم سے ملنے کی اجازت دی جائے۔
استاد کے مطابق انہیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ ایک کم عمر طالب علم کو بغیر وضاحت کے پولیس لاک اپ میں رکھا گیا۔ انہوں نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات مزید وضاحت اور شفافیت کے متقاضی ہیں۔
بعد ازاں سید لوت سید عبد الرحمن نے اس گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کارروائی ایک جرائم کی روک تھام کے آپریشن کے دوران کی گئی تھی۔ ان کے مطابق پولیس ٹیم اس وقت ون بورنیو مال میں موجود تھی جب یہ واقعہ پیش آیا۔
پولیس کے مطابق متعلقہ شخص سے شناختی دستاویزات طلب کی گئیں لیکن وہ درست سفری دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہا۔ اس وجہ سے اسے حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ اس کیس کی تحقیقات امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 6(1)(c) کے تحت کی جا رہی ہیں، جو اس صورتحال سے متعلق ہے جب کوئی شخص درست سفری دستاویزات کے بغیر ملک میں موجود ہو۔
پولیس کے مطابق واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی ہے جس کے بعد حکام اس شخص کی شہریت کی تصدیق کے لیے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کر رہے ہیں۔
بعد میں استاد صابر شریف الدین نے میڈیا کو بتایا کہ طالب علم کا تعلق باجاؤ لاؤت کمیونٹی سے ہے اور وہ ایک بے ریاست فرد (سٹیٹ لیس) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے تفتیشی افسر نے ان سے طالب علم کے اسکول اور خاندان سے متعلق کچھ دستاویزات فراہم کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔
مندیری تنظیم نے اس معاملے میں طالب علم کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ بے ریاست افراد کے مسئلے کے حل کے لیے جامع پالیسی اختیار کی جائے، خاص طور پر باجاؤ لاؤت جیسے کمیونٹیز کے حوالے سے۔
تنظیم کے مطابق ایسے مسائل اکثر پسماندہ کمیونٹیز کو متاثر کرتے ہیں جہاں لوگ مختلف مشکلات کا سامنا کرتے ہیں جن میں بے دخلی، قانونی مسائل اور بچوں کی گرفتاری جیسے واقعات شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی بچہ اپنی پیدائش کے وقت بے ریاست ہونے کا انتخاب نہیں کرتا، اس لیے ایسے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

COMMENTS