ملائیشیا کی ریاست کیلانتن کے شہر کوتا بھارو میں رمضان کے دوران ایک مشترکہ آپریشن میں 17 بھکاریوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ یہ کارروائی محکمہ ...
ملائیشیا کی ریاست کیلانتن کے شہر کوتا بھارو میں رمضان کے دوران ایک مشترکہ آپریشن میں 17 بھکاریوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ یہ کارروائی محکمہ سماجی بہبود کیلانتن نے مختلف اداروں کے تعاون سے شہر کے مصروف مقامات پر کی۔
حکام کے مطابق یہ آپریشن 16 مارچ 2026 کو صبح تقریباً 9 بج کر 30 منٹ سے دوپہر 12 بج کر 30 منٹ تک جاری رہا۔ اس کارروائی کا مقصد رمضان کے دوران عوامی مقامات پر بھیک مانگنے کی سرگرمیوں کو روکنا اور متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنا تھا۔
محکمہ سماجی بہبود کیلانتن کے ڈائریکٹر چی سمسوزکی چی نوح نے بتایا کہ اس آپریشن میں کئی اداروں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ ان اداروں میں رائل ملائیشین پولیس، محکمہ امیگریشن اور کوتا بھارو سٹی کونسل شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی شہر کے مختلف اہم اور مصروف مقامات پر کی گئی۔ ان مقامات میں پاسر سیتی خدیجہ، بازار بلوہ کبو، مسجد محمدی اور شہر کے بعض بینکوں کے اطراف کے علاقے شامل تھے جہاں عام طور پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔
حکام کے مطابق اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 17 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں سات غیر ملکی مرد اور دس مقامی شہری شامل ہیں۔ مقامی افراد میں نو مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔
محکمہ سماجی بہبود کے مطابق تمام افراد کو مزید تحقیقات کے لیے محکمہ کے دفتر منتقل کر دیا گیا ہے۔ وہاں ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی اور ان کے حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس میں مزید کارروائی غریب اور بے سہارا افراد سے متعلق قانون، یعنی ایکٹ اورنگ اورنگ پاپا 1977 کے تحت کی جا سکتی ہے۔ اس قانون کے تحت بھیک مانگنے اور اس سے متعلق سرگرمیوں پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔
محکمہ سماجی بہبود کے حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے آپریشن وقتاً فوقتاً جاری رکھے جائیں گے تاکہ عوامی مقامات پر نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے اور ضرورت مند افراد کو مناسب سماجی مدد فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ رمضان کے دوران عوامی مقامات پر لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے افراد کی نشاندہی بھی کی جاتی ہے جو سڑکوں یا عبادت گاہوں کے اطراف بھیک مانگتے ہیں۔
حکام کے مطابق بعض افراد واقعی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، اس لیے ایسے افراد کو سماجی بہبود کے پروگراموں کے ذریعے مدد فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم جو لوگ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جاتی ہے۔
محکمہ سماجی بہبود کیلانتن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ ضرورت مند افراد کی درست طریقے سے مدد کرنا بھی ہے۔ اسی لیے گرفتار کیے گئے افراد کے حالات اور پس منظر کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔
اس مشترکہ آپریشن کے ذریعے حکام یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ عوامی مقامات پر غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ ادارے سماجی مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی کام جاری رکھیں گے۔

COMMENTS