پُتراجایا: عیدالفطر کے موقع پر مسجد کے باہر مقامی بھکاریوں کے ساتھ غیر ملکیوں کی بھی موجودگی دیکھی گئی، جہاں وہ نمازیوں سے امداد طلب کرتے نظ...
پُتراجایا: عیدالفطر کے موقع پر مسجد کے باہر مقامی بھکاریوں کے ساتھ غیر ملکیوں کی بھی موجودگی دیکھی گئی، جہاں وہ نمازیوں سے امداد طلب کرتے نظر آئے۔ رپورٹ کے مطابق صبح سویرے ہی تقریباً 10 افراد پر مشتمل گروہ مسجد کے مرکزی دروازے کے قریب موجود تھا، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے۔
مشاہدے کے دوران دیکھا گیا کہ کچھ افراد بچوں کو، خصوصاً شیر خوار بچوں کو، سٹرولر میں ساتھ لا کر نمازیوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ افراد نمازیوں کے داخلے کے راستوں پر بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر ہاتھ پھیلا کر مدد طلب کرتے رہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ان بھکاریوں کی اکثریت مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے، ان میں فلسطین کے علاوہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے شہری بھی شامل بتائے گئے ہیں۔ بعض خواتین اور بچے مسجد کے داخلی راستوں پر بیٹھے رہے اور آنے جانے والوں سے مالی مدد مانگتے رہے۔
ایک غیر ملکی شخص، جس کی عمر تقریباً 30 سال بتائی گئی، نے دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ سال اپنے خاندان کے ساتھ اردن سے آیا تھا اور اب بے روزگار ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے اخراجات کے لیے لوگوں سے مدد مانگ رہا ہے کیونکہ اس کے پاس عید کے موقع پر کھانے تک کے پیسے نہیں ہیں۔
اسی طرح ایک خاتون، جس نے خود کو فلسطینی ظاہر کیا، بھی بچوں کے ساتھ امداد مانگتی نظر آئی، تاہم اس نے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا اور جلدی وہاں سے چلی گئی۔
اس سے قبل بھی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ غیر ملکی بھکاریوں کے گروہ سیاحتی مقامات جیسے بکیت بنتانگ، جالن ہنگ تواہ اور جالن پیتالنگ میں سرگرم ہیں، جہاں وہ بچوں کو ساتھ رکھ کر لوگوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق جباتن کیباجیکان مسیاراکات نے 2023 سے نومبر 2025 تک 4,311 غیر ملکی بھکاریوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ یہ کارروائیاں "اکتا اورنگ-اورنگ پاپا 1977" کے تحت کی گئی ہیں، جس کے تحت بھکاریوں کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

COMMENTS