ملائیشیا میں ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے ...
ملائیشیا میں ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران ٹک ٹاک نے ملائیشیا کی ڈیجیٹل معیشت میں تقریباً 20 ارب رنگٹ کے مجموعی ویلیو ایڈڈ کا اضافہ کیا جبکہ اس پلیٹ فارم کی سرگرمیوں کے نتیجے میں ملک بھر میں تقریباً 147 ہزار ملازمتوں کی حمایت بھی ممکن ہوئی۔
یہ معلومات مقامی میڈیا رپورٹ میں سامنے آئیں، جس میں بتایا گیا کہ یہ اعداد و شمار ایک عالمی مشاورتی ادارے کیرنے کی جانب سے تیار کردہ ملائشیا سوشوایکنامکس ایمپیکٹ رپورٹ 2025 میں پیش کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک کی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی معاشی قدر ملائیشیا کی ڈیجیٹل معیشت کے تقریباً چار فیصد کے برابر ہے جبکہ یہ ملک کے مجموعی قومی پیداوار کے تخمینے کا تقریباً ایک فیصد بنتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اب صرف تفریح تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ معیشت میں عملی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ملائیشیا کے وزیرِ معیشت اکمل نصر اللہ محمد ناصر نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز اس بات کی مثال ہیں کہ ڈیجیٹل شرکت حقیقی معاشی فوائد میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز کاروباری افراد کے لیے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرتے ہیں اور نوجوانوں کو کاروبار اور تخلیقی سرگرمیوں کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت حکومت کے ملائشیا مدانی وژن اور 13ویں ملائشیا پلان کے تحت ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کی کوششوں کے مطابق ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹک ٹاک کا ایکو سسٹم اب صرف تفریحی مواد تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ کاروباری سرگرمیوں، اختراع اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے والا ایک معاشی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ مشاورتی ادارے کے نمائندوں کے مطابق اس پلیٹ فارم کے ذریعے ہزاروں افراد نے اپنی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے۔
اسی رپورٹ میں ٹک ٹاک شاپ سے منسلک ایک کاروباری شخصیت منصور بن راملی کی مثال بھی دی گئی ہے، جو ایک معذور کاروباری شخص ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2022 میں بیماری کے باعث ان کے کاروبار میں کمی آ گئی تھی، تاہم بعد میں انہوں نے ٹک ٹاک شاپ کے ذریعے اپنے کاروبار کو دوبارہ منظم کیا۔ ان کے مطابق ابتدا میں انہیں کوئی فروخت نہیں ہو رہی تھی لیکن اب وہ روزانہ تقریباً 1,000 رنگٹ تک کی فروخت حاصل کر رہے ہیں۔
اسی طرح ایک کانٹینٹ کریئیٹر سیندرا ہنایو نے بھی بتایا کہ انہوں نے ایوی ایشن انڈسٹری چھوڑ کر مکمل وقت کے لیے کانٹینٹ کریشن کو اختیار کیا۔ ان کے مطابق ٹک ٹاک سے حاصل ہونے والی آمدنی ان کی سابقہ ملازمت کے مقابلے میں تین گنا تک بڑھ گئی، جس سے انہیں اپنے خاندان کی مدد کرنے اور اپنے بھائی کے علاج کے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ٹک ٹاک شاپ کے پلیٹ فارم پر ملائیشیا میں 1.8 ملین سے زیادہ مقامی کاروبار موجود ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر 100 ہزار سے زیادہ مقامی کاروباروں کو تربیت بھی فراہم کی جا چکی ہے تاکہ وہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن فروخت کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ایک سروے کے مطابق تقریباً 97 فیصد کاروبار ٹک ٹاک کو اپنی آمدنی کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔ بہت سے کاروباری افراد نے بتایا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے انہیں ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویڈیو کانٹینٹ بنانے اور لائیو سیلنگ جیسے شعبوں میں نئی مہارتیں حاصل ہوئیں۔
ٹک ٹاک ملائیشیا کے پبلک پالیسی ہیڈ فردوس فاضل کے مطابق کمپنی ملک میں کریئیٹرز اور کاروباری اداروں کی مدد جاری رکھے گی تاکہ ڈیجیٹل معیشت کے پھیلاؤ کے ساتھ مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سروے میں شامل تقریباً 35 فیصد کانٹینٹ کریئیٹرز خود کو مکمل وقت کا کریئیٹر قرار دیتے ہیں جبکہ تقریباً 45 فیصد افراد نے کہا کہ ٹک ٹاک سے حاصل ہونے والی آمدنی ملائیشیا کی کم از کم تنخواہ سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ اکتوبر 2024 سے 2025 کے دوران تقریباً 4.5 ملین ملائیشین کریئیٹرز نے ٹک ٹاک لائیو کے ذریعے آمدنی حاصل کی۔

COMMENTS