ایپوہ: ملائیشیا کی ریاست پیراک میں محکمہ امیگریشن ملائشیا نے عیدالفطر کے پہلے دن ہی اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے غیر ملکی افراد کی نگرانی...
ایپوہ: ملائیشیا کی ریاست پیراک میں محکمہ امیگریشن ملائشیا نے عیدالفطر کے پہلے دن ہی اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے غیر ملکی افراد کی نگرانی اور جانچ کے عمل کو تیز کر دیا۔
حکام کے مطابق یکم شوال کے موقع پر “آپریشن اومنی پریزنس” کے تحت خصوصی کارروائی کی گئی، جس کا مقصد ریاست میں امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا تھا۔
پیراک کے امیگریشن ڈائریکٹر جیمز لی نے بتایا کہ یہ آپریشن ہفتہ کے روز صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک جاری رہا، جس میں نفاذِ قانون کے نو افسران نے حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ کارروائی کا مرکزی فوکس کنتا ڈسٹرکٹ کے مختلف علاقوں پر تھا، جہاں پہلے سے نشاندہی کیے گئے “ہاٹ اسپاٹس” میں غیر قانونی سرگرمیوں کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔
حکام کے مطابق آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 105 افراد کی اچانک جانچ کی گئی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ امیگریشن قوانین کے مطابق ملک میں مقیم ہیں۔
امیگریشن حکام نے واضح کیا کہ اس کارروائی کا بنیادی مقصد ایسے غیر ملکیوں کی نشاندہی کرنا تھا جو بغیر قانونی دستاویزات کے رہائش پذیر ہیں، ساتھ ہی تمام افراد کو قوانین کا پابند بنانا بھی اس کا حصہ ہے۔
ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں صرف مخصوص مواقع تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے، جس کے ذریعے ریاست میں امیگریشن نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تہواروں کے دوران جب نقل و حرکت میں اضافہ ہوتا ہے، ایسے میں نگرانی مزید سخت کرنا ضروری ہو جاتا ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔
حکام کے مطابق آئندہ بھی ایسے آپریشنز وقتاً فوقتاً جاری رکھے جائیں گے، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں خطرات زیادہ ہوں۔
انہوں نے عوام سے بھی تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ اگر کسی کو مشکوک سرگرمی نظر آئے تو متعلقہ اداروں کو فوری اطلاع دی جائے تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت امیگریشن قوانین کے نفاذ کے حوالے سے سنجیدہ ہے اور کسی بھی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔

COMMENTS