کوالالمپور میں حکام نے مشترکہ نفاذی کارروائی کے دوران چار کاروباری مقامات کو مختلف خلاف ورزیوں پر جرمانہ عائد کر دیا۔ کارروائی کے دوران یہ ا...
کوالالمپور میں حکام نے مشترکہ نفاذی کارروائی کے دوران چار کاروباری مقامات کو مختلف خلاف ورزیوں پر جرمانہ عائد کر دیا۔ کارروائی کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ بعض کاروباری مراکز غیر ملکی کارکنان کو بغیر اجازت ملازمت دے رہے تھے جبکہ کچھ مقامات پر شراب فروخت کرنے کے لیے مطلوبہ لائسنس بھی موجود نہیں تھا۔
یہ مشترکہ آپریشن دیوان بندرایا کوالالمپور کی قیادت میں کیا گیا جس میں وزارت تجارت داخلی و لاگتِ زندگی، محکمہ کسٹمز ملائیشیا اور محکمہ امیگریشن ملائیشیا نے بھی حصہ لیا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد شہر میں کاروباری سرگرمیوں کی نگرانی کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ تمام تجارتی ادارے مقررہ قوانین اور ضوابط کے مطابق کام کریں۔
حکام نے بتایا کہ کارروائی کے دوران کوالالمپور کے مختلف علاقوں میں واقع کئی کاروباری مراکز کی جانچ پڑتال کی گئی۔ ان میں جالان بندر (پیٹالنگ اسٹریٹ)، جالان جیلاوت (ایمبر بزنس پلازا) اور جالان جیجاکا (تمن مالوری) کے علاقے شامل تھے۔ یہ مقامات کوالالمپور کے مصروف تجارتی علاقوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ خریداری اور کاروبار کے لیے آتے ہیں۔
ڈی بی کے ایل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے دوران حکام نے کاروباری مراکز میں مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ ان میں یہ دیکھا گیا کہ آیا کاروبار قانونی لائسنس کے تحت چلایا جا رہا ہے یا نہیں، آیا غیر ملکی افراد کاروبار چلا رہے ہیں یا کام کر رہے ہیں اور کیا کاروباری مراکز اشیائے ضروریہ یا کنٹرولڈ اشیا کی فروخت کے قوانین کی پابندی کر رہے ہیں۔
مزید یہ بھی جانچا گیا کہ کاروباری مراکز میں استعمال ہونے والے وزن اور پیمائش کے آلات درست ہیں یا نہیں اور آیا فروخت کی جانے والی اشیا پر مقررہ قیمتیں درج کی گئی ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ حکام نے یہ بھی دیکھا کہ کہیں ایسی اشیا تو فروخت نہیں کی جا رہیں جن پر کسٹمز ڈیوٹی یا ایکسائز ٹیکس ادا نہیں کیا گیا۔
جانچ کے بعد حکام نے چار کاروباری مراکز کے خلاف مختلف خلاف ورزیوں پر کمپاؤنڈ نوٹس (جرمانے) جاری کیے۔ ڈی بی کے ایل کے مطابق ان خلاف ورزیوں میں سب سے نمایاں معاملہ غیر ملکی کارکنان کو بغیر سرکاری اجازت کے ملازمت دینا تھا۔ اس کے علاوہ بعض کاروباری مراکز کو اس لیے بھی جرمانہ کیا گیا کیونکہ وہ اپنے لائسنس میں درج سرگرمیوں کے علاوہ دیگر کاروباری سرگرمیاں چلا رہے تھے۔
حکام نے واضح کیا کہ ان کارروائیوں کے لیے قانونی بنیاد انڈر لائز پرلیسنن ٹریڈ، بزنس اینڈ انڈسٹری 2016 کے تحت فراہم کی گئی ہے، جس کے مطابق کوالالمپور میں تمام کاروباری مراکز کو باقاعدہ لائسنس حاصل کرنا اور مقررہ قواعد پر عمل کرنا ضروری ہے۔
اس مشترکہ کارروائی میں شامل دیگر اداروں نے بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں کے تحت اقدامات کیے۔ کے پی ڈی این نے قیمتوں کی نشاندہی اور وزن و پیمائش سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر ایک کمپاؤنڈ نوٹس جاری کیا۔ یہ کارروائی سیکشن 58، ایکٹ کنٹرول ہارگا دان اینٹی پینچاتوتن 2011 کے تحت کی گئی۔
دوسری جانب محکمہ کسٹمز ملائیشیا نے بھی کارروائی کرتے ہوئے چار نوٹس جاری کیے۔ ان نوٹسز کا تعلق بغیر لائسنس شراب فروخت کرنے، کسٹمز ڈیوٹی ادا نہ کرنے اور دیگر ٹیکس سے متعلق خلاف ورزیوں سے تھا۔
حکام کے مطابق کسٹمز حکام نے کارروائی کے دوران مختلف اقسام کی شراب، جن میں بیئر اور دیگر الکحل مشروبات شامل تھے، ضبط بھی کر لیے۔ یہ ضبطی کسٹمز ایکٹ 1967 کے سیکشن 32 کے تحت کی گئی۔
ڈی بی کے ایل نے اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کے مشترکہ آپریشنز مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ کوالالمپور میں کاروباری سرگرمیاں قانون کے مطابق چلتی رہیں اور کسی کو بھی غیر قانونی کاروبار کرنے کا موقع نہ ملے۔
حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد صرف جرمانے عائد کرنا نہیں بلکہ کاروباری اداروں کو یہ یاد دلانا بھی ہے کہ انہیں اپنے لائسنس کی شرائط اور ملکی قوانین کی مکمل پابندی کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی ادارہ قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
مزید کہا گیا کہ کوالالمپور ایک اہم تجارتی اور سیاحتی شہر ہے، اس لیے یہاں کاروباری نظام کو منظم اور شفاف بنانا ضروری ہے تاکہ صارفین، تاجروں اور شہر میں آنے والے افراد کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ کاروباری مالکان کو چاہیے کہ وہ غیر ملکی کارکنان کی بھرتی سے پہلے متعلقہ حکام سے اجازت حاصل کریں اور تمام دستاویزات مکمل رکھیں۔ اسی طرح شراب فروخت کرنے والے مراکز کو بھی قانونی لائسنس حاصل کرنا لازمی ہے۔

COMMENTS