کوتا کنابالو: ملائیشیا کی ریاست صباح کے دارالحکومت کوتا کنابالو میں ایک پاکستانی شہری کے خلاف نو سالہ بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے کے الزام...
کوتا کنابالو: ملائیشیا کی ریاست صباح کے دارالحکومت کوتا کنابالو میں ایک پاکستانی شہری کے خلاف نو سالہ بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے کے الزام میں عدالت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس کے خلاف بچوں کے خلاف جنسی جرائم سے متعلق قانون کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق 33 سالہ پاکستانی شہری عثمان علی کو کوتا کنابالو کورٹ کمپلیکس میں قائم سیشن کورٹ میں پیش کیا گیا۔ مقدمے کی سماعت سیشن کورٹ کے جج عامر شاہ عامر حسین کے روبرو ہوئی جہاں استغاثہ نے ملزم کے خلاف الزامات پیش کیے۔
عدالت میں کارروائی کے دوران ملزم کی جانب سے کسی قسم کا اعتراف یا انکار ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم ملائیشیا کی قومی زبان باہاسا ملايو نہیں سمجھتا اور اسے مقدمے کی تفصیل سمجھنے کے لیے پشتو زبان کے مترجم کی ضرورت ہے۔ اس وجہ سے عدالت نے باضابطہ طور پر ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے سے پہلے مترجم کی فراہمی ضروری قرار دی۔
عدالت نے اس صورتحال کے پیش نظر کیس کی اگلی سماعت 20 اپریل مقرر کی ہے۔ اس دوران عدالت کی جانب سے پشتو زبان کے مترجم کا انتظام کیا جائے گا تاکہ ملزم کو اس کے خلاف عائد الزامات واضح طور پر سمجھائے جا سکیں اور عدالتی کارروائی قانونی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھائی جا سکے۔
عدالتی حکم کے مطابق کیس کی سماعت مکمل ہونے تک ملزم کو حراست میں رکھا جائے گا۔ اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ مقدمے کی کارروائی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور تمام قانونی مراحل مناسب طریقے سے مکمل کیے جا سکیں۔
استغاثہ کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے 5 فروری کو صباح کے علاقے انانام میں واقع کمپونگ واریسن کے ایک گروسری اسٹور میں نو سالہ بچی کے ساتھ نازیبا حرکت کی۔ الزام کے مطابق اس نے بچی کے جسم کو نامناسب انداز میں چھوا جس کے بعد متاثرہ بچی کے اہل خانہ نے واقعہ کی اطلاع حکام کو دی۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے بعد معاملہ عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ملزم کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق اس نوعیت کے جرائم کو ملائیشیا میں انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور بچوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین نافذ ہیں۔
اس مقدمے میں ملزم پر بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کے ایکٹ 2017 کی دفعہ 14(a) کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ یہ قانون خاص طور پر بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور اس میں سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
قانون کے مطابق اگر ملزم پر عائد الزامات عدالت میں ثابت ہو جائیں تو اسے زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت ملزم کو کوڑوں کی سزا بھی دے سکتی ہے جو اس قانون کے تحت ممکنہ سزا کا حصہ ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس مقدمے میں استغاثہ کی نمائندگی ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر برائن فرانسس کر رہے ہیں۔ تاہم عدالت میں پیشی کے وقت ملزم کے پاس کوئی قانونی وکیل موجود نہیں تھا اور وہ بغیر کسی نمائندے کے عدالت کے سامنے پیش ہوا۔
ملائیشیا میں بچوں کے خلاف جرائم کے حوالے سے سخت قوانین اور عدالتی نظام موجود ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز میں فوری کارروائی اور شفاف تحقیقات کے ذریعے متاثرہ بچوں کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت میں مترجم کی موجودگی اس لیے ضروری ہوتی ہے تاکہ ملزم کو مقدمے کی مکمل تفصیل اپنی زبان میں سمجھائی جا سکے اور وہ عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق استعمال کر سکے۔
عدالت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ مترجم کی فراہمی کے بعد کیس کی باقاعدہ سماعت شروع کی جائے گی اور اس دوران تمام شواہد اور گواہوں کو عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

COMMENTS