اسلام آباد: پاکستان، انڈونیشیا اور ملائیشیا نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے ...
اسلام آباد: پاکستان، انڈونیشیا اور ملائیشیا نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ تینوں ممالک نے زور دیا ہے کہ موجودہ صورتحال کو سنبھالنے کے لیے بات چیت اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جائے۔
سرکاری بیان کے مطابق پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو اور ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو کی۔ ان رابطوں میں مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بگڑتی صورتحال اور خطے کی دیگر پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر کے درمیان گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمام فریقین کو زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اختلافات کے حل کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ سفارتی کوششیں شروع کرنی چاہئیں۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی مذمت بھی کی اور ان حملوں کے بعد خلیجی ممالک کو نشانہ بنائے جانے والے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے انڈونیشیا کے صدر کو آگاہ کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے بڑھا رہا ہے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔
اس گفتگو کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے افغانستان کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان دہشت گرد گروہوں کے خلاف اقدامات کر رہا ہے اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
اسی طرح وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن کی بحالی اور معمول کی صورتحال کی واپسی ضروری ہے، لیکن اس کے لیے تمام فریقین کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام کے لیے باقاعدگی سے رابطہ اور تعاون جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کو افغانستان کے حوالے سے حالیہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور علاقائی سلامتی کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی بریفنگ دی۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے بھی مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر مختلف سفارتی رابطے کیے۔ انہوں نے برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ اور کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند سے گفتگو کی۔
ان رابطوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے فوری طور پر کشیدگی کم کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے بات چیت، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو بنیادی اہمیت دی گئی۔
مبصرین کے مطابق پاکستان کی قیادت اس وقت خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تحمل، مذاکرات اور سفارتی رابطے ہی مسائل کے حل کا مؤثر راستہ ہیں۔

COMMENTS