اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران گرنے والے میزائل کے ملبے سے مختلف واقعات میں کم از کم تین پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے۔ حکام کے...
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران گرنے والے میزائل کے ملبے سے مختلف واقعات میں کم از کم تین پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق دو پاکستانی متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں جبکہ ایک شخص ایران کے قریب سمندری حدود میں پیش آنے والے واقعے میں جان کی بازی ہار گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے جب خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث فضائی دفاعی نظام مسلسل متحرک ہے۔ بعض میزائلوں یا ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ان کا ملبہ مختلف علاقوں میں گر جاتا ہے اور بعض اوقات شہریوں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق دبئی میں دو پاکستانی شہری اس وقت جاں بحق ہو گئے جب میزائل کا ملبہ ان کے قریب آ کر گرا۔ واقعے کے بعد مقامی حکام نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں تاہم دونوں افراد جانبر نہ ہو سکے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور مرنے والوں کی میتیں جلد وطن منتقل کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ایک اور واقعہ ایران کے ساحلی علاقے کے قریب سمندر میں پیش آیا جہاں ایک پاکستانی شخص کشتی میں سوار تھا۔ بتایا گیا ہے کہ وہ شخص اس وقت ہلاک ہوا جب ایک نامعلوم پروجیکٹائل یا میزائل کا ملبہ کشتی کے قریب سمندر میں گرا۔
یہ واقعہ ایران اور پاکستان کی سمندری سرحد کے قریب پیش آیا جو بلوچستان کے جنوب مغربی ساحلی علاقے کے قریب واقع ہے۔ مقامی پولیس افسر زاہد حسین کے مطابق متاثرہ شخص ایک چھوٹی کشتی میں سوار تھا جب ملبہ اس کے قریب گرا اور وہ شدید زخمی ہو گیا جس کے باعث اس کی موت واقع ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں کئی بار دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران فضائی دفاعی نظام میزائل اور ڈرونز کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جس پروجیکٹائل کے ملبے سے یہ ہلاکتیں ہوئیں وہ کس نوعیت کا تھا۔ تاہم بعض میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر اسرائیلی ڈرون ہو سکتا ہے جسے ایران کے فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا تھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے جبکہ اس تنازع میں امریکہ کے کردار کے باعث خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب میزائل یا ڈرون کو فضا میں تباہ کیا جاتا ہے تو اس کے ٹکڑے بعض اوقات دور دراز علاقوں میں جا کر گرتے ہیں، جس سے غیر متوقع حادثات پیش آ سکتے ہیں۔ خاص طور پر ساحلی علاقوں اور سمندری راستوں پر کام کرنے والے افراد اس خطرے کا زیادہ سامنا کرتے ہیں۔
ایران اور پاکستان کے درمیان واقع سمندری سرحدی علاقے میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ایندھن کی نقل و حمل بھی عام ہے۔ اس لیے یہاں مقامی ماہی گیر اور مزدور اکثر سمندر میں موجود ہوتے ہیں، جس کے باعث ایسے واقعات میں جانی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے ساحلی شہروں میں حالیہ دنوں کے دوران متعدد بار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں کیونکہ فضائی دفاعی نظام آنے والے ڈرونز یا میزائلوں کو روکنے کے لیے سرگرم رہا ہے۔
اب تک کسی بھی سرکاری ادارے نے اس بات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی کہ ان واقعات میں استعمال ہونے والا پروجیکٹائل کس ملک سے تعلق رکھتا تھا۔ تاہم تحقیقات جاری ہیں اور حکام واقعے کی مکمل تفصیلات جمع کر رہے ہیں۔
پاکستانی حکومت نے بھی متعلقہ ممالک سے رابطہ کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث ایسے غیر متوقع واقعات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس میں عام شہری غیر ارادی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔

COMMENTS