ملائشیا میں عیدالفطر سے قبل سینکڑوں غیر ملکی کارکنوں نے وطن واپسی کے لیے امیگریشن دفاتر کا رخ کر لیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق متعدد غیر ملکی کا...
ملائشیا میں عیدالفطر سے قبل سینکڑوں غیر ملکی کارکنوں نے وطن واپسی کے لیے امیگریشن دفاتر کا رخ کر لیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق متعدد غیر ملکی کارکن اپنے ویزا مسائل حل کر کے رضاکارانہ طور پر اپنے ممالک واپس جانے کے لیے امیگریشن مراکز کے باہر لمبی قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔
رپورٹ کے مطابق ریاست نگری سیمبلان کے شہر سیرمبن کے علاقے سیناوانگ میں واقع محکمہ امیگریشن ملائشیا کے دفتر کے باہر صبح سویرے ہی غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق لوگ صبح ساڑھے سات بجے سے ہی قطاروں میں کھڑے ہونا شروع ہو گئے حالانکہ دفتر کا وقت صبح آٹھ بجے ہے۔
حکام کے مطابق زیادہ تر غیر ملکی کارکن انڈونیشیا اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں جو عیدالفطر اپنے آبائی ممالک میں منانے کے لیے واپس جانا چاہتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے وہ حکومت کے متعارف کرائے گئے خصوصی پروگرام کے تحت درخواستیں جمع کرا رہے ہیں۔
یہ کارکن حکومت کے پروگرام ریپیٹری ایسی مائگرین 2.0 کے ذریعے وطن واپسی کے خواہش مند ہیں۔ اس پروگرام کے تحت وہ غیر ملکی افراد جن کے پاس درست سفری دستاویزات نہیں ہیں یا جن کا ویزا ختم ہو چکا ہے، انہیں مخصوص شرائط کے ساتھ رضاکارانہ طور پر اپنے ملک واپس جانے کا موقع دیا جاتا ہے۔
امیگریشن حکام کے مطابق اس پروگرام کا مقصد ان غیر ملکی کارکنوں کو قانونی کارروائی سے بچاتے ہوئے رضاکارانہ واپسی کا موقع فراہم کرنا ہے جن کے پاس درست پاسپورٹ یا ورک پرمٹ نہیں ہے یا جو مقررہ مدت سے زیادہ عرصہ ملک میں مقیم رہے ہیں۔
اس پروگرام کے تحت درخواست دینے والے افراد کو چند شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں۔ ان میں درست پاسپورٹ اور درخواست کے 14 دن کے اندر سفر کا ٹکٹ ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مختلف خلاف ورزیوں کے مطابق جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔
حکام کے مطابق جن افراد کے پاس ویزا نہیں ہوتا یا وہ ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرتے ہیں ان پر تقریباً 500 ملائیشین رنگٹ جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، جبکہ ویزا شرائط کی خلاف ورزی پر 300 رنگٹ اور خصوصی پاس کے لیے 20 رنگٹ فیس مقرر ہے۔
ریاست نگری سیمبلان کے امیگریشن ڈائریکٹر کینیتھ ٹین آئی کیانگ نے میڈیا کو بتایا کہ یہ پروگرام مرحلہ وار 2024 سے نافذ کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق پروگرام کا پہلا مرحلہ پروگرام ریپیٹری ایسی مائگرین 1.0 مارچ 2024 سے مارچ 2025 تک جاری رہا جبکہ دوسرا مرحلہ پروگرام ریپیٹری ایسی مائگرین 2.0 مئی 2025 سے اپریل 2026 تک جاری رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ عیدالفطر قریب آنے کے باعث غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وطن واپسی کی درخواست دے رہی ہے۔
حکام کے مطابق امیگریشن دفتر میں روزانہ تقریباً 150 افراد کی درخواستیں قبول کی جاتی ہیں، تاہم گزشتہ دو ہفتوں کے دوران درخواست دہندگان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ بعض دنوں میں 180 سے زائد افراد بغیر پیشگی اپائنٹمنٹ کے دفتر پہنچ جاتے ہیں جس کی وجہ سے عملے کو رات دس بجے تک کام کرنا پڑ رہا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ درخواست دینے والوں میں کئی افراد دوسرے علاقوں سے بھی آ رہے ہیں جن میں کوالالمپور اور سیلانگور سے آنے والے کارکن بھی شامل ہیں۔
امیگریشن حکام کے مطابق فروری کے آغاز سے ہی درخواستوں کی تعداد بڑھنا شروع ہو گئی تھی، تاہم گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اس میں مزید اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر غیر ملکی کارکن عیدالفطر اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزارنے کے لیے اس پروگرام کے ذریعے وطن واپس جانا چاہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد تعمیرات، فیکٹریوں اور سروس سیکٹر میں کام کرتی ہے، جبکہ قانونی دستاویزات کے مسائل کی وجہ سے بعض افراد کو اس طرح کے پروگراموں سے فائدہ اٹھانا پڑتا ہے۔

COMMENTS