ملائیشیا کے شہر جوہر بہرو میں ایک خاتون نے اپنے ہی شوہر کو لوٹنے کے لیے مجرمانہ سازش کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ عدالت میں پیش ہونے والے اس مق...
ملائیشیا کے شہر جوہر بہرو میں ایک خاتون نے اپنے ہی شوہر کو لوٹنے کے لیے مجرمانہ سازش کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ عدالت میں پیش ہونے والے اس مقدمے میں تقریباً پانچ لاکھ رنگٹ کی ڈکیتی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
جوہر بہرو کی سیشن عدالت میں 53 سالہ مقامی خاتون، شمیِم بیگم عبدالسعید، نے اعتراف جرم کیا کہ وہ ایک مجرمانہ منصوبے کا حصہ تھیں جس کے تحت اپنے شوہر کے خلاف اجتماعی ڈکیتی کی سازش کی گئی۔ اس کیس میں ایک معذور شخص سمیت کئی افراد کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ واقعہ 24 فروری کو دوپہر تقریباً 12 بجے پیش آیا۔ ڈکیتی کی یہ واردات پاسر گودانگ کے تجارتی مرکز میں بینک اسلام کے عقب میں واقع پارکنگ ایریا میں پیش آئی۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان نے مل کر ایک منصوبہ بنایا تھا جس کے تحت خاتون کے شوہر کو نشانہ بنایا گیا۔
اس مقدمے میں 30 سالہ محمد رشید اسماعیل بھی شریک ملزم ہیں جو جزوی طور پر معذور ہیں اور وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں۔ عدالت میں پیشی کے دوران وہ ویل چیئر پر آئے، روایتی لباس پہنا ہوا تھا اور ان کے ساتھ طبی آلات بھی موجود تھے۔ محمد رشید نے عدالت میں الزامات سے انکار کیا اور خود کو بے گناہ قرار دیا۔
استغاثہ کے مطابق دونوں ملزمان پر ملائیشیا کے تعزیراتی قانون کی دفعہ 395 کے تحت اجتماعی ڈکیتی کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان پر دفعہ 120B(1) کے تحت مجرمانہ سازش کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ اگر جرم ثابت ہو جائے تو اس جرم کی سزا بیس سال تک قید اور جرمانہ ہو سکتی ہے۔
عدالت میں مقدمہ ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر محمد افضحلان شفیق عظمیٰ نے پیش کیا، جبکہ محمد رشید کی نمائندگی وکیل حافظ ذوالکفلی نے کی۔ دوسری جانب شمیِم بیگم کے پاس عدالت میں کوئی وکیل موجود نہیں تھا۔
دوران سماعت محمد رشید کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کے مؤکل کو ضمانت دی جائے کیونکہ وہ معذور ہیں اور ان کی صحت کے مسائل ہیں۔ وکیل نے بتایا کہ محمد رشید ایک کھانے پینے کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور ان کی ماہانہ آمدنی تقریباً 2500 رنگٹ ہے۔
اسی دوران شمیِم بیگم نے عدالت کو بتایا کہ ان کے شوہر ایک کمپنی کے منیجر ہیں اور ان کی ماہانہ آمدنی تقریباً 5000 رنگٹ ہے۔ انہوں نے بھی عدالت سے ضمانت کی درخواست کی۔
جج داتوک چی وان زیدی چی وان ابراہیم نے دونوں ملزمان کو فی کس 12 ہزار رنگٹ کی ضمانت پر رہا کرنے کی اجازت دی اور کیس کی اگلی سماعت کے لیے 8 اپریل کی تاریخ مقرر کی۔
اسی مقدمے سے متعلق سیشن عدالت میں دو دیگر افراد، 32 سالہ محمد شُکری محمد یوسف اور 23 سالہ عبدالرحمن عبدالرحیم، پر بھی اجتماعی ڈکیتی کا الزام عائد کیا گیا۔ دونوں ملزمان نے عدالت میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بے گناہی کا دعویٰ کیا۔
ان دونوں پر بھی تعزیراتی قانون کی دفعہ 395 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں بیس سال تک قید اور کوڑوں کی سزا دی جا سکتی ہے۔ عدالت نے دونوں کو آٹھ ہزار رنگٹ کی ضمانت پر رہا کرنے کی اجازت دی۔
اسی کیس سے جڑے ایک اور ملزم، 30 سالہ کاروباری شخصیت امیرال عظیم سمت، پر بھی دو الگ الزامات عائد کیے گئے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈکیتی کے بعد چوری شدہ رقم میں سے پچاس ہزار رنگٹ اپنے گھر میں چھپا کر رکھے۔ یہ واقعہ بندر سری عالم، مسائی کے ایک گھر میں پیش آیا۔
ان پر تعزیراتی قانون کی دفعہ 412 کے تحت چوری شدہ مال رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان پر دفعہ 399 کے تحت اجتماعی ڈکیتی کی تیاری کرنے کا بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ عدالت نے انہیں دونوں الزامات کے تحت مجموعی طور پر 18 ہزار رنگٹ کی ضمانت پر رہا کیا اور کیس کی سماعت کے لیے 14 اپریل کی تاریخ مقرر کی۔
دوسری جانب جوہر بہرو کی مجسٹریٹ عدالت میں ایک اور ملزم، 31 سالہ مکینک محمد توفیق محمد جمیل، پر بھی مقدمہ درج کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بغیر کسی قانونی جواز کے ایک نقلی پستول اپنے پاس رکھا ہوا تھا جس پر “پیئٹرو بریتا” لکھا ہوا تھا۔ یہ واقعہ 27 فروری کو تمپوئی کے علاقے میں پیش آیا۔
ان پر اسلحہ ایکٹ 1960 کی دفعہ 36(1) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں ایک سال تک قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔ مجسٹریٹ عدالت نے انہیں پانچ ہزار رنگٹ کی ضمانت پر رہا کیا اور کیس کی اگلی سماعت کے لیے 31 مارچ کی تاریخ مقرر کی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پولیس نے اس ڈکیتی کیس میں آٹھ مقامی افراد کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 45 سالہ پاکستانی شہری نے ایک بینک سے پانچ لاکھ رنگٹ نقد رقم نکالی تھی اور اس وقت اس کی بیوی بھی اس کے ساتھ موجود تھی۔

COMMENTS