کوالالمپور: حکومت نے واضح کیا ہے کہ نیشنل انٹیگریٹڈ امیگریشن سسٹم کو ملک کے داخلی راستوں پر توسیع دینے کے باوجود تمام مسافروں کے لیے لازمی ق...
کوالالمپور: حکومت نے واضح کیا ہے کہ نیشنل انٹیگریٹڈ امیگریشن سسٹم کو ملک کے داخلی راستوں پر توسیع دینے کے باوجود تمام مسافروں کے لیے لازمی قرار نہیں دیا جائے گا۔ حکام کے مطابق امیگریشن کلیئرنس کے متعدد متبادل طریقے بدستور دستیاب رہیں گے تاکہ شہریوں اور دیگر مسافروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ وضاحت دیوان نگارا میں دی گئی، جہاں نائب وزیر داخلہ داتوک سری ڈاکٹر شمسُل انوار نصارہ نے سینیٹر رابرٹ لاو ہوئی یو کے سوال کا جواب دیا۔ سوال میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعوؤں کا حوالہ دیا گیا تھا جن میں کہا جا رہا تھا کہ نئے امیگریشن نظام کو ایک مخصوص تاریخ سے لازمی بنا دیا جائے گا۔
نائب وزیر نے کہا کہ حکومت نے ایسی کوئی باضابطہ تاریخ مقرر نہیں کی جس کے تحت اس نظام کا استعمال سب کے لیے لازمی ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسافروں کے لیے روایتی امیگریشن کاؤنٹرز پر فزیکل پاسپورٹ کے ذریعے کلیئرنس، آٹوگیٹس اور بائیومیٹرک تصدیق سمیت مختلف سہولیات جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ شہریوں اور دیگر مسافروں کو اپنی ضرورت اور سہولت کے مطابق آپشن منتخب کرنے کا حق حاصل رہے۔ حکومت امیگریشن نظام کو جدید بنانے کے عمل کو مرحلہ وار اور منظم انداز میں نافذ کرے گی تاکہ کسی قسم کی بدانتظامی یا دباؤ پیدا نہ ہو۔
نیا امیگریشن سسٹم دراصل ایک مربوط امیگریشن نظام ہے جس کا مقصد سرحدی کنٹرول کو مؤثر بنانا اور بڑھتی ہوئی سرحد پار آمدورفت کو بہتر طریقے سے منظم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات اور سفری رجحانات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ایک جدید اور مربوط نظام کی ضرورت محسوس کی گئی۔
نائب وزیر نے بتایا کہ حکومت اس توسیع کو مرحلہ وار نافذ کرے گی تاکہ امیگریشن مینجمنٹ زیادہ منظم اور مربوط ہو سکے۔ ان کے مطابق اس طریقہ کار سے سرحدی سلامتی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مسافروں کی آمدورفت کو بھی ہموار بنایا جا سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مائی بارڈر پاس ایپلیکیشن کو ابتدا میں عارضی طور پر بطور پروف آف کانسیپٹ متعارف کرایا گیا تھا تاکہ داخلی راستوں پر رش کو کم کیا جا سکے۔ اس تجربے کے بعد اب نئے امیگریشن سسٹم کو ایک جامع نظام کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے، تاہم اسے لازمی بنانے کا کوئی فوری منصوبہ زیر غور نہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ امیگریشن نظام میں تبدیلی کا مقصد شہریوں پر بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ سہولت فراہم کرنا ہے۔ اسی لیے مختلف کلیئرنس آپشنز کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ بزرگ افراد، ٹیکنالوجی سے کم واقف مسافر یا خصوصی ضرورت رکھنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پارلیمانی کارروائی کے دوران نائب وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ نظام کی مرحلہ وار توسیع سے حکام کو تکنیکی خامیوں کی نشاندہی اور اصلاح کا موقع ملے گا۔ اس سے نہ صرف سیکیورٹی مضبوط ہوگی بلکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک جدید امیگریشن ڈھانچہ بھی قائم کیا جا سکے گا۔
حکام کے مطابق سرحدی سیکیورٹی اور مسافروں کی سہولت کے درمیان توازن برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔ اسی تناظر میں نئے امیگریشن نظام کی توسیع احتیاط اور منصوبہ بندی کے ساتھ کی جا رہی ہے تاکہ ملک کے تمام داخلی راستوں پر یکساں اور مؤثر نظام نافذ کیا جا سکے۔

COMMENTS