ملائیشیا میں غیر قانونی طور پر مہاجرین کو لانے اور ملازمت دلانے والے گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے حکام نے سات افراد کو گرفتار کر لیا۔ محک...
ملائیشیا میں غیر قانونی طور پر مہاجرین کو لانے اور ملازمت دلانے والے گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے حکام نے سات افراد کو گرفتار کر لیا۔
محکمہ امیگریشن ملائشیا نے اینٹی ٹریفکنگ اور اے ایم ایل اے ڈویژن کے ذریعے 2 مارچ 2026 کو کلانگ، سیلانگور میں خصوصی آپریشن کیا۔ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جس میں بنگلہ دیشی شہریوں کو غیر قانونی طور پر ملک میں لا کر نوکری دینے کا انکشاف ہوا تھا۔
آپریشن کے دوران تقریباً 40 سالہ بنگلہ دیشی شہری کو گرفتار کیا گیا، جسے مرکزی ایجنٹ اور مبینہ سرغنہ قرار دیا گیا۔ حکام کے مطابق وہ سرحد کے قریب سے مہاجرین کو لانے، عارضی ٹھکانوں پر رکھنے اور بعد ازاں مخصوص آجروں کے حوالے کرنے کا انتظام کرتا تھا۔
ابتدائی تفتیش کے بعد کلانگ میں گاڑیوں کو پینٹ کرنے والی ایک ورکشاپ پر چھاپہ مارا گیا۔ یہ مقام عارضی "سیف ہاؤس" کے طور پر استعمال ہو رہا تھا جہاں مشرقی ساحلی علاقے سے لائے گئے مہاجرین کو رکھا جاتا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ملائیشیا۔تھائی لینڈ سرحد کے غیر قانونی زمینی راستوں سے لایا گیا۔
چھاپے کے دوران 21 سے 45 سال کے تین بنگلہ دیشی مردوں کو بازیاب کیا گیا۔ جانچ پڑتال میں ان کے پاس ملائیشیا میں داخلے کا کوئی قانونی ریکارڈ یا مہر موجود نہیں تھی۔ بیان کے مطابق انہیں تعمیراتی شعبے میں کام دلانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اسی آپریشن میں مزید تین بنگلہ دیشی افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جن کی عمریں 34 سے 38 سال کے درمیان ہیں۔ حکام کے مطابق یہ افراد ایجنٹ، ٹرانسپورٹر اور ٹھکانے کے نگراں کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ایک ٹویوٹا وش گاڑی بھی ضبط کی گئی جسے مہاجرین کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
تمام ساتوں افراد کو امیگریشن ہیڈکوارٹر پوتراجایا منتقل کر دیا گیا ہے۔ کیس کی تفتیش انسدادِ انسانی اسمگلنگ اور انسدادِ مہاجر اسمگلنگ ایکٹ 2007 اور امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت جاری ہے۔
حکام نے کہا ہے کہ غیر قانونی داخلے، پناہ دینے یا غیر قانونی کارکن رکھنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

COMMENTS