کوالالمپور: وزیراعظم انور ابراہیم نے اعلان کیا ہے کہ ایران نے ملائیشیا کے جہازوں کو اہم عالمی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی...
کوالالمپور: وزیراعظم انور ابراہیم نے اعلان کیا ہے کہ ایران نے ملائیشیا کے جہازوں کو اہم عالمی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے جاری عالمی توانائی بحران کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ٹیلی ویژن خطاب میں وزیراعظم انور ابراہیم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشین آئل ٹینکرز کو “جلد کلیئرنس” دی گئی ہے تاکہ وہ محفوظ طریقے سے اپنی منزل کی جانب روانہ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا، “ہم ملائیشین آئل ٹینکرز اور عملے کی رہائی کے عمل میں ہیں تاکہ وہ اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے بحفاظت وطن واپس آ سکیں۔”
اگرچہ وزیراعظم نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنے جہازوں کو اجازت دی گئی ہے یا کن شرائط کے تحت انہیں گزرنے کی اجازت ملی، تاہم یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ-اسرائیل ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس گزرگاہ کی بندش یا محدود فعالیت عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین میں خلل کا باعث بنتی ہے۔
وزیراعظم انور ابراہیم نے مزید کہا کہ اگرچہ ملائیشیا اس بحران سے متاثر ہوا ہے، تاہم سرکاری توانائی کمپنی پیٹروناس کی مضبوط پیداواری صلاحیت کی وجہ سے ملک دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملائیشیا دنیا کے بڑے ایل این جی سپلائرز میں شامل ہے، لیکن اس کے باوجود ملک اپنی خام تیل کی تقریباً 70 فیصد ضروریات خلیجی خطے سے درآمد کرتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس بحران کے اثرات عوام تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ “خوراک کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، قیمتیں یقیناً بڑھیں گی، کھاد کی قیمتیں بھی متاثر ہوں گی، اور یقیناً تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا،” انور ابراہیم نے کہا۔ ان کے مطابق حکومت صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے، جن میں سبسڈی والے پیٹرول کی ماہانہ مقدار میں کمی اور سرکاری ملازمین کے لیے مرحلہ وار ورک فرام ہوم پالیسی شامل ہے۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ ان جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے جو امریکہ یا اسرائیل کے ساتھ منسلک نہیں ہیں، تاہم تہران نے اس آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے اس خطے میں کم از کم 20 تجارتی جہازوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ ایک ایسا قانون بھی زیر غور لا رہی ہے جس کے تحت جہازوں سے گزرنے کے لیے ٹول فیس وصول کی جا سکتی ہے، جو بعض کیسز میں 2 ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
میرٹائم انٹیلی جنس کمپنی ونڈ وارڈ کے مطابق حالیہ دنوں میں اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد انتہائی کم ہو گئی ہے۔ بدھ کے روز صرف 5 جہازوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی، جبکہ جنگ سے قبل یہ تعداد روزانہ اوسطاً 120 جہاز تھی، جو عالمی تجارت میں اس گزرگاہ کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
ملائیشیا روایتی طور پر غیر جانبدار خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور وہ کسی بھی بڑے عالمی تنازع میں براہ راست فریق بننے سے گریز کرتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال نے نہ صرف توانائی بلکہ خوراک اور صنعتی شعبوں کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے باعث حکومت کو فوری اور عملی اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں کی معیشتوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

COMMENTS