ملائیشیا کے وزیر اعظم نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے معاملے پر افغانستان کی عبوری حکومت کے قائم مقام وزیر اعظم ملا ...
ملائیشیا کے وزیر اعظم نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے معاملے پر افغانستان کی عبوری حکومت کے قائم مقام وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔ اس رابطے کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملائیشیا کے وزیر اعظم کے مطابق انہوں نے جمعرات کی رات افغانستان کے قائم مقام وزیر اعظم سے گفتگو کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان اور پاکستان دونوں کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہو۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں دونوں جانب سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کا ضیاع فوری طور پر رکنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے تمام فریقین کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے واضح کیا کہ کسی بھی تنازع کا حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ بات چیت اور سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ ملائیشیا ہمیشہ خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کرتا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت ملائیشیا نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے معاملے پر بھی بات چیت اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کشیدگی کو بروقت کم نہ کیا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ تنازع کو مزید بڑھنے سے روکا جائے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جاری کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کسی بھی طویل تنازع سے انسانی مسائل بڑھتے ہیں، معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں تمام متعلقہ فریقوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیں۔ ان کے مطابق تحمل، بردباری اور سفارتی رابطے ہی وہ راستہ ہیں جو کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں۔
ملائیشیا نے اس موقع پر ایک مرتبہ پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہی سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
وزیر اعظم کے مطابق ملائیشیا عالمی برادری کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کی حمایت کرے گا جو خطے میں امن و استحکام کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تنازع کا طویل ہونا عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی جائیں۔
اس گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات پر بھی بات کی۔ ملائیشیا کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ سفارتی رابطے اور مکالمہ ہی وہ راستہ ہیں جو کسی بھی تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ملائیشیا کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم بات انسانی جانوں کا تحفظ اور خطے میں امن کو برقرار رکھنا ہے۔ اسی لیے حکومت نے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکیں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔

COMMENTS