شاہ عالم: امیگریشن حکام کے اچانک چھاپے کے دوران کچھ غیر ملکی کارکنان نے ننگے پاؤں بھاگ کر گرفتاری سے بچنے کی کوشش کی، تاہم ان کی یہ کوشش ناک...
شاہ عالم: امیگریشن حکام کے اچانک چھاپے کے دوران کچھ غیر ملکی کارکنان نے ننگے پاؤں بھاگ کر گرفتاری سے بچنے کی کوشش کی، تاہم ان کی یہ کوشش ناکام ثابت ہوئی اور انہیں موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔ یہ کارروائی ریاست سیلانگور میں ایک مربوط آپریشن کے تحت انجام دی گئی جس میں مختلف سرکاری اداروں نے حصہ لیا۔
محکمہ امیگریشن ملائشیا (جے آئی ایم) سیلانگور نے “اوپ ماہِر” کے نام سے جاری آپریشن کے دوران سیکشن 23، شاہ عالم میں واقع ایک بیٹری گودام پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے وقت متعدد غیر ملکی کارکنان وہاں موجود تھے، جن میں سے کچھ آرام کر رہے تھے جبکہ چند کھانا کھانے میں مصروف تھے۔ جیسے ہی حکام نے کارروائی شروع کی، بعض افراد نے فرار ہونے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین کے مطابق چند افراد جلد بازی میں گر بھی پڑے جبکہ بعض ننگے پاؤں دوڑتے ہوئے دیکھے گئے۔
چھاپے کے دوران گرفتار ہونے والے ایک بنگلہ دیشی شہری نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس پاسپورٹ موجود نہیں ہے اور وہ سر جھکائے خاموش کھڑا رہا۔ حکام نے موقع پر موجود تمام کارکنان کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی، جس کے بعد متعدد افراد کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا گیا۔
سیلانگور کے امیگریشن ڈائریکٹر خیررول امینس کمارالدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے مقام پر 41 مردوں کو مشتبہ غیر قانونی تارکین وطن ہونے کے شبے میں حراست میں لیا گیا۔ ان میں 23 بنگلہ دیشی، 9 پاکستانی، 7 میانما اور 2 بھارتی شہری شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق کئی افراد نے مقررہ مدت سے زیادہ قیام کیا تھا جبکہ بعض نے اپنے ورک پاس کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ مثال کے طور پر کچھ کارکنان کے پاس تعمیرات یا شجرکاری کے شعبے کا ورک پاس تھا، لیکن وہ بیٹری گودام میں کام کرتے پائے گئے۔
حکام کے مطابق ان کے خلاف امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے ریگولیشن 39(b) اور امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 15(1)(c) کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ مزید تفتیش کے لیے گودام کے آجر کو بھی طلب کیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس نے جان بوجھ کر غیر قانونی کارکنان کو ملازمت دی یا نہیں۔
اسی روز ایک علیحدہ کارروائی میں شاہ عالم کے ایک برقی آلات کے گودام پر چھاپہ مارا گیا جہاں 42 مزید افراد کو مشتبہ غیر قانونی تارکین وطن ہونے کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔ ان میں 22 بھارتی، 9 بنگلہ دیشی، 8 سری لنکن اور 3 نیپالی شہری شامل ہیں۔ اس طرح دونوں مقامات سے مجموعی طور پر 83 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
آپریشن صبح 10 بجے شروع ہوا اور اس میں جباتن ٹیناگا کرجا (جے ٹی کے) اور جباتن پندفتران نگارا (جے پی این) نے بھی معاونت فراہم کی۔ حکام کے مطابق یہ مربوط کارروائیاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں کہ ملک میں موجود غیر ملکی کارکنان قانونی تقاضوں کی مکمل پابندی کریں۔
کارروائی کے دوران کوالہ لانگات میں واقع ایک کارٹن فیکٹری اور شاہ عالم کے ایک لوہے کے گودام کا بھی معائنہ کیا گیا۔ ان دونوں مقامات پر 121 غیر ملکی کارکنان کی جانچ پڑتال کی گئی، تاہم تمام افراد کے پاس درست دستاویزات موجود پائے گئے اور وہ اپنے پاس کی شرائط کے مطابق کام کر رہے تھے۔ امیگریشن ڈائریکٹر نے ایسے آجروں کی تعریف کی جو قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور اپنے کارکنان کی دستاویزات کو درست رکھتے ہیں۔
گرفتار تمام افراد کو مزید کارروائی کے لیے سمینیہ امیگریشن ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کے کیسز کی تفصیلی جانچ کی جائے گی۔ اگر الزامات ثابت ہوئے تو انہیں جرمانے، قید یا ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ ریاست بھر میں ایسے مربوط آپریشنز جاری رہیں گے تاکہ غیر قانونی قیام، پاس کی خلاف ورزی اور دیگر امیگریشن جرائم کا سدباب کیا جا سکے۔ انہوں نے آجروں کو خبردار کیا کہ غیر قانونی کارکنان کو ملازمت دینا سنگین جرم ہے جس پر بھاری جرمانہ اور قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

COMMENTS