سیلنگور: ملائیشیا میں عیدالفطر کے قریب آتے ہی حکام نے غیر قانونی راستوں کے ذریعے غیر ملکیوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے ساحلی علاقوں میں نگرا...
سیلنگور: ملائیشیا میں عیدالفطر کے قریب آتے ہی حکام نے غیر قانونی راستوں کے ذریعے غیر ملکیوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے ساحلی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست سیلنگور میں امیگریشن حکام نے خاص طور پر غیر رجسٹرڈ جیٹیوں اور غیر سرکاری سمندری راستوں پر کڑی نظر رکھنے کا اعلان کیا ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔
ریاستی امیگریشن کے مطابق محکمہ امیگریشن ملائیشیا (جے آئی ایم) سیلنگور نے عیدالفطر سے قبل ساحلی علاقوں میں نگرانی بڑھا دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض غیر رجسٹرڈ جیٹیاں ایسے مقامات کے طور پر سامنے آئی ہیں جہاں سے غیر ملکی شہری خفیہ طور پر ملک سے باہر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سیلنگور کے امیگریشن ڈائریکٹر خیرل امینس کمرالدین نے بتایا کہ حکام کو شبہ ہے کہ بعض گروہ غیر قانونی راستوں کے ذریعے غیر ملکیوں کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ساحلی علاقوں میں موجود غیر رجسٹرڈ جیٹیوں اور غیر سرکاری راستوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امیگریشن حکام نے ایسے کئی مقامات کی نشاندہی کی ہے جو ممکنہ طور پر غیر قانونی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان میں خاص طور پر ریاست سیلنگور کے ضلع سباک برنام کے کچھ ساحلی علاقے شامل ہیں جہاں متعدد غیر رجسٹرڈ جیٹیاں موجود ہیں۔
ان کے مطابق اگر کوئی شخص قانونی طور پر ملک سے باہر جانا چاہتا ہے تو اس کے لیے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری راستے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر مسافر پلابوہان کلانگ کے بندرگاہی راستے یا پورٹ ڈکسن سے چلنے والی فیری سروس استعمال کر سکتے ہیں جو باضابطہ اور قانونی راستے سمجھے جاتے ہیں۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ امیگریشن حکام نہ صرف جیٹیوں کی نگرانی کر رہے ہیں بلکہ مشتبہ گاڑیوں کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکام کو شبہ ہے کہ بعض گاڑیاں غیر ملکی شہریوں کو ساحلی مقامات تک پہنچانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں تاکہ وہ غیر قانونی راستوں سے ملک سے باہر جا سکیں۔
اسی مقصد کے لیے امیگریشن حکام مختلف علاقوں میں خفیہ نگرانی اور گشت بھی بڑھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ساحلی علاقوں میں مقامی حکام اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون بھی مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو فوری طور پر روکا جا سکے۔
حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمی نظر آئے تو فوری طور پر امیگریشن حکام کو اطلاع دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوامی تعاون سے غیر قانونی نقل و حرکت اور انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اسی دوران امیگریشن حکام نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرایا گیا پروگرام ریپیٹری ایسی مائگرین (پی آر ایم) بھی غیر ملکیوں کے لیے قانونی طور پر اپنے وطن واپس جانے کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔
اس پروگرام کے تحت غیر ملکی شہری رضاکارانہ طور پر اپنے ملک واپس جا سکتے ہیں اور اس دوران انہیں حراست یا سخت قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ حکام کے مطابق اس پروگرام کو غیر ملکی شہریوں کی جانب سے مثبت ردعمل ملا ہے۔
سیلنگور میں اس پروگرام کے آغاز کے بعد سے اب تک تقریباً 49,808 غیر ملکی شہری رضاکارانہ طور پر اپنے آبائی ممالک واپس جا چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں اس پروگرام کے تحت 5,216 افراد نے وطن واپسی کا انتخاب کیا تھا جبکہ جنوری میں یہ تعداد بڑھ کر 6,158 ہو گئی۔ فروری میں اس پروگرام کے تحت واپس جانے والوں کی تعداد مزید بڑھ کر 8,402 تک پہنچ گئی۔
حکام کے مطابق ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی شہریوں میں قانونی طریقے سے اپنے وطن واپس جانے کے رجحان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اس پروگرام کو جاری رکھیں گے تاکہ غیر قانونی قیام کے مسئلے کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکے۔
امیگریشن حکام نے واضح کیا کہ عیدالفطر کے موقع پر سرحدی نگرانی اور ساحلی علاقوں میں گشت مزید بڑھایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ملک کی سلامتی کو یقینی بنانا اور غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔

COMMENTS