ملائیشیا کے شہر جوہر بہرو میں غیر ملکی کارکنوں کی دستاویزات کے غلط استعمال میں ملوث ایک گروہ کو حکام نے بے نقاب کر دیا ہے۔ کارروائی کے دوران...
ملائیشیا کے شہر جوہر بہرو میں غیر ملکی کارکنوں کی دستاویزات کے غلط استعمال میں ملوث ایک گروہ کو حکام نے بے نقاب کر دیا ہے۔ کارروائی کے دوران 16 غیر ملکی شہریوں اور ایک مقامی شخص کو گرفتار کیا گیا۔
یہ کارروائی محکمہ امیگریشن ملائشیا کی ٹیم نے دو الگ الگ چھاپوں کے دوران کی، جن میں ایک تفریحی مرکز اور دیگر مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
ادارے کے ڈائریکٹر جنرل زکریا شعبان کے مطابق پہلا چھاپہ تمان سیری ٹروپیکا کے ایک تفریحی مرکز میں مارا گیا جہاں 11 غیر ملکی افراد کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں آٹھ خواتین کا تعلق تھائی لینڈ سے جبکہ دو خواتین اور ایک مرد ویتنام سے تعلق رکھتے ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان افراد میں سے بعض نے اپنے ویزوں کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام جاری رکھا ہوا تھا جبکہ کچھ افراد نے سوشل وزٹ پاس اور عارضی ورک پرمٹ کا غلط استعمال کرتے ہوئے تفریحی مرکز میں بطور ویٹر کام کیا۔
حکام نے کارروائی کے دوران متعدد غیر ملکی پاسپورٹس، ڈیجیٹل ریکارڈنگ آلات، موبائل فونز اور 3,025 رنگٹ نقد رقم بھی ضبط کی جو مبینہ طور پر اس غیر قانونی سرگرمی سے حاصل کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق یہ تفریحی مرکز تقریباً ایک سال سے سرگرم تھا اور یہاں غیر ملکی خواتین کی خدمات تقریباً 250 رنگٹ فیس کے عوض فراہم کی جاتی تھیں۔
بعد ازاں امیگریشن حکام نے مزید کارروائی کرتے ہوئے باتو پاہات اور جوہر بہرو کے دیگر علاقوں میں آپریشن کیا جہاں ایک اور گروہ کو گرفتار کیا گیا جو گھریلو ملازمین کی درخواست کے نظام کا غلط استعمال کر رہا تھا۔
اس کارروائی میں پانچ غیر ملکی خواتین کو حراست میں لیا گیا جن میں چار ویتنام اور ایک انڈونیشیا سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی کارروائی میں ایک مقامی شخص کو بھی گرفتار کیا گیا جسے اس گروہ کا مرکزی کردار قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ گروہ آن لائن درخواست کے نظام کے ذریعے مشتبہ جعلی دستاویزات اور غلط معلومات فراہم کر کے گھریلو ملازمہ کے ورک پرمٹ حاصل کرتا تھا۔ بعد میں ان اجازت ناموں کو ایسے افراد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جو دراصل اس کام کے لیے اہل نہیں ہوتے تھے۔
حکام کے مطابق اس گروہ کی جانب سے ہر فرد سے تقریباً 6,000 رنگٹ وصول کیے جاتے تھے۔ یہ رقم غیر قانونی طریقے سے ورک پرمٹ حاصل کرنے کے بدلے لی جاتی تھی۔
امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے مختلف سیکشنز کے تحت زیر تفتیش ہے جن میں غیر قانونی داخلہ، ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد قیام اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی شامل ہے۔
تمام گرفتار افراد کو مزید کارروائی کے لیے سیٹیا ٹروپیکا امیگریشن آفس منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ کچھ مقامی افراد کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں تاکہ وہ تفتیش میں تعاون کے لیے پیش ہوں۔
حکام نے کہا ہے کہ امیگریشن قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ملک بھر میں نگرانی اور کارروائیوں کو مزید سخت کیا جائے گا۔

COMMENTS