ریاست جوہر کے علاقے اسکندر پوتری میں پولیس نے دو مقامی افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ امیگریشن افسر بن کر غیر ملکی شہریوں کو...
ریاست جوہر کے علاقے اسکندر پوتری میں پولیس نے دو مقامی افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ امیگریشن افسر بن کر غیر ملکی شہریوں کو دھمکا کر رقم وصول کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی ایک غیر ملکی شہری کی شکایت کے بعد عمل میں لائی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق واقعہ اس وقت سامنے آیا جب بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ایک 28 سالہ شخص نے پولیس کو رپورٹ درج کروائی۔ اس نے بتایا کہ اسے 8 مارچ کی شام تقریباً آٹھ بجے اپنے 23 سالہ بھائی کی طرف سے فون کال موصول ہوئی جس میں اس نے بتایا کہ اسے دو افراد نے حراست میں لے لیا ہے۔ متاثرہ شخص کے مطابق دونوں افراد نے خود کو محکمہ امیگریشن ملائشیا کے افسر ظاہر کیا اور اسے چھوڑنے کے بدلے رقم کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ شخص کو تامن نوسہ بیستری کے علاقے میں روکا گیا تھا جہاں ملزمان نے اس سے کہا کہ اگر وہ فوری طور پر 1600 ملائیشین رنگٹ ادا کرے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا۔ متاثرہ شخص کے بھائی نے اس معاملے پر فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا جس کے بعد حکام نے تحقیقات کا آغاز کیا۔
پولیس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق خفیہ اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے پیر کی رات تقریباً 12 بج کر 20 منٹ پر کارروائی کرتے ہوئے اسی علاقے سے دو مقامی افراد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ہونے والے افراد کی عمریں 40 اور 41 سال بتائی گئی ہیں۔
اس کیس کے حوالے سے ضلع پولیس کے سربراہ ایم کمارسن نے بتایا کہ گرفتار افراد میں سے ایک کے خلاف ماضی میں بھی جرائم اور منشیات سے متعلق مقدمات درج ہیں۔ تاہم ابتدائی پیشاب ٹیسٹ میں دونوں ملزمان کا منشیات ٹیسٹ منفی آیا ہے۔
پولیس نے گرفتاری کے دوران ملزمان کے قبضے سے متعدد اشیاء بھی برآمد کیں۔ ان میں ایک گاڑی، دو سیٹ واکی ٹاکی، مختلف برانڈز کے نو موبائل فون، دو بیگ جن میں متاثرہ شخص کے پاسپورٹ کی نقول موجود تھیں اور 80 ملائیشین رنگٹ نقد رقم شامل ہے۔
پولیس حکام کے مطابق اس کیس کی تفتیش مکمل کرنے کے بعد فائل کو اٹارنی جنرل چیمبر کے دفتر کو بھیجا گیا جس کے بعد ہدایت دی گئی کہ دونوں ملزمان پر سیکشن 419 پینل کوڈ ملائشیا کے تحت فرد جرم عائد کی جائے۔ یہ دفعہ کسی سرکاری اہلکار کی نقالی کرتے ہوئے دھوکہ دہی کرنے سے متعلق ہے۔
حکام کے مطابق اس قسم کے واقعات میں بعض اوقات غیر ملکی شہری خوف یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث شکایت درج کروانے سے ہچکچاتے ہیں، جس کی وجہ سے ملزمان کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ انہیں دھمکا کر رقم وصول کریں۔ پولیس نے کہا ہے کہ ایسے معاملات میں متاثرہ افراد کو فوراً حکام کو اطلاع دینی چاہیے تاکہ مناسب کارروائی کی جا سکے۔
پولیس نے خاص طور پر ایسے آجروں کو بھی مشورہ دیا ہے جن کے پاس غیر ملکی ملازمین کام کرتے ہیں کہ وہ اپنے کارکنوں کو آگاہ کریں کہ اگر کوئی شخص خود کو امیگریشن افسر ظاہر کرے تو اس کی تصدیق کریں اور کسی بھی مشکوک صورتحال میں فوراً پولیس سے رابطہ کریں۔
پولیس کے مطابق عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حکام نے یقین دہانی کروائی کہ ایسے جرائم کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ کسی کو بھی غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے دوسروں کو نقصان پہنچانے کا موقع نہ مل سکے۔

COMMENTS