ملائیشیا کے شہر سیگامات میں ایک مسجد کے اندر خاتون نمازی کے سامنے غیر اخلاقی حرکت کرنے والے مشتبہ شخص کو پولیس نے 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار ک...
ملائیشیا کے شہر سیگامات میں ایک مسجد کے اندر خاتون نمازی کے سامنے غیر اخلاقی حرکت کرنے والے مشتبہ شخص کو پولیس نے 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا۔ ابتدائی اطلاعات میں اس واقعے کو ایک غیر ملکی شخص سے جوڑا جا رہا تھا، تاہم تازہ تحقیقات سے واضح ہوا ہے کہ گرفتار ملزم مقامی شہری ہے۔
سیگامات ڈسٹرکٹ پولیس ہیڈکوارٹر کی ٹیم نے مشتبہ شخص کو جمعہ کی صبح تقریباً 3 بج کر 15 منٹ پر جوہر بہرو کے علاقے پاسر گودانگ میں ایک گھر سے گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار شخص کی عمر تقریباً 20 سال ہے اور وہ ملائیشیا کا مقامی شہری ہے۔
سیگامات کے ضلعی پولیس چیف سپرنٹنڈنٹ محمد جمعہ زانزاہر اسماعیل نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مشتبہ شخص معذور افراد کے کارڈ کا حامل ہے۔ پولیس کے مطابق وہ سیگامات کا مستقل رہائشی نہیں ہے بلکہ دوسرے علاقے سے آیا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے سے ایک دن پہلے ملزم اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ سیگامات آیا تھا تاکہ روزہ افطار کر سکے۔ اگلے دن جب وہ واپس جوہر بہرو جانے کی تیاری کر رہا تھا تو اس نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجد کے اندر غیر اخلاقی حرکت کی۔
مزید تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مشتبہ شخص کا اس سے پہلے کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق اس کے پیشاب کے ٹیسٹ میں بھی کسی قسم کی ممنوعہ منشیات کے استعمال کے آثار نہیں ملے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کے روز صبح تقریباً 11 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا۔ اس وقت تقریباً 40 سالہ خاتون نمازی مسجد میں موجود تھیں۔ خاتون نے دیکھا کہ ایک شخص نیم برہنہ حالت میں ان کی طرف دیکھتے ہوئے قابل اعتراض حرکت کر رہا ہے۔ صورتحال دیکھ کر خاتون فوری طور پر وہاں سے نکل گئیں اور خود کو محفوظ کیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے فوری تحقیقات شروع کیں اور سی سی ٹی وی سمیت دیگر شواہد کی مدد سے مشتبہ شخص کی شناخت کی گئی۔ اس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو پاسر گودانگ کے ایک گھر سے گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کو چار دن کے جسمانی ریمانڈ پر لیا گیا ہے تاکہ مزید تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔ اس کیس کی تفتیش ملائیشیا کے تعزیراتی قانون کی دفعہ 377D کے تحت کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیس کی فائل ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر کے پاس بھیجی جائے گی تاکہ مزید قانونی کارروائی کے حوالے سے ہدایات حاصل کی جا سکیں۔
سیگامات پولیس چیف نے کہا کہ عبادت گاہوں میں اس طرح کے واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق جو بھی شخص عبادت گاہوں میں غیر اخلاقی یا قانون کے خلاف حرکت کرے گا اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ اگر کہیں اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آئے تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جائے تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے اور عوامی مقامات خصوصاً عبادت گاہوں کا احترام برقرار رکھا جا سکے۔

COMMENTS