کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے بتایا ہے کہ انہیں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا ٹیلیفون موصول ہوا، جس میں مغربی ایش...
کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے بتایا ہے کہ انہیں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا ٹیلیفون موصول ہوا، جس میں مغربی ایشیا کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سرکاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں حالیہ پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ گفتگو کے دوران اسرائیل اور امریکا کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر خاص طور پر بات کی گئی۔ ملائیشین وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ کشیدگی عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق تمام متعلقہ فریقین کو فوری طور پر حملے روکنے چاہئیں اور بغیر کسی شرط کے جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر واپسی ہی واحد مؤثر راستہ ہے تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ دونوں وزرائے اعظم اس بات پر متفق تھے کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی ذرائع اختیار کیے جائیں تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔
گفتگو کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کے لیے ممکنہ اقدامات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس تناظر میں دو طرفہ اور علاقائی استحکام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
انور ابراہیم نے اس موقع پر کہا کہ تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملائیشیا ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی چینلز کے استعمال کی حمایت کرتا ہے۔
ملائیشین وزیرِ اعظم کے مطابق موجودہ حالات میں دانشمندانہ قیادت اور ذمہ دارانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی میں کمی کے لیے فوری رابطے اور سفارتی کوششیں تیز کی جانی چاہئیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔
بیان کے مطابق ملائیشیا عالمی سطح پر امن، انصاف اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی پالیسی پر کاربند ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور کسی بھی یکطرفہ کارروائی سے خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔

COMMENTS