کوالالمپور: ملائیشیا کی حکومت نے غیر ملکی ملازمین (ایکسپیٹس) کے لیے قوانین سخت کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد ملک میں کام کرنے والے ہزا...
کوالالمپور: ملائیشیا کی حکومت نے غیر ملکی ملازمین (ایکسپیٹس) کے لیے قوانین سخت کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد ملک میں کام کرنے والے ہزاروں غیر ملکی پیشہ ور افراد کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس اقدام کا مقصد مقامی افراد کو روزگار کے زیادہ مواقع فراہم کرنا اور اجرتوں میں اضافہ کرنا بتایا جا رہا ہے، تاہم ماہرین اور متاثرہ افراد نے اس سے ہنر مند افرادی قوت کے انخلا کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
نئے قوانین کے مطابق جون 2026 سے غیر ملکی ملازمین کے لیے کم از کم تنخواہ کی حد میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا، جو بعض کیٹیگریز میں تقریباً دوگنا ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر، ایک کیٹیگری میں کم از کم تنخواہ 10,000 رنگٹ (تقریباً 2,500 ڈالر) سے بڑھا کر 20,000 رنگٹ (5,000 ڈالر) کر دی جائے گی، جبکہ دیگر کیٹیگریز میں یہ حد 5,000 سے 10,000 اور 3,000 سے 5,000 رنگٹ تک بڑھائی جائے گی۔ اس کے علاوہ، کمپنیوں کو کسی بھی غیر ملکی ملازم کو محدود مدت (5 یا 10 سال) تک ہی اسپانسر کرنے کی اجازت ہوگی۔
ملائیشیا میں اس وقت تقریباً 21 لاکھ رجسٹرڈ غیر ملکی مزدور کام کر رہے ہیں، جن میں زیادہ تر کم اجرت والے شعبوں جیسے تعمیرات اور مینوفیکچرنگ میں مصروف ہیں۔ اس کے برعکس، تقریباً 1 لاکھ 40 ہزار ہائی اسکلڈ غیر ملکی ملازمین ایسے شعبوں میں کام کر رہے ہیں جیسے فنانس، سیمی کنڈکٹرز اور آئل اینڈ گیس، جو معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ 2024 میں وزیر داخلہ سیف الدین ناسوشن کے مطابق یہ ہنر مند افراد ملکی معیشت میں تقریباً 75 ارب رنگٹ (19 ارب ڈالر) کا حصہ ڈال رہے ہیں اور سالانہ تقریباً 10 کروڑ رنگٹ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
بھارتی نژاد بزنس کنسلٹنٹ "سنجیت" (فرضی نام)، جو گزشتہ ایک دہائی سے ملائیشیا میں مقیم ہیں، نے اس پالیسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ غیر متوقع تھا۔ ان کے مطابق، "پانچ سال مکمل ہونے کے بعد ملائیشیا ایک مستقل رہائش کے لیے بہترین جگہ لگتا تھا، لیکن اب طویل مدتی منصوبے جیسے گھر خریدنا یا یہاں مستقل رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔"
اسی طرح برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ ویلتھ مینیجر تھامس میڈ نے کہا کہ تنخواہ کی حد میں اچانک اضافہ غیر ملکی ملازمین کے لیے حیران کن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی افراد اب دیگر ممالک میں منتقل ہونے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں، حالانکہ وہ ملائیشیا کی ثقافت اور ماحول سے مطمئن تھے۔
سنگاپور کے سرمایہ کار ڈگلس گین نے کہا کہ نئی پالیسی سے کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا، خاص طور پر ان اداروں کے لیے جو درمیانے درجے کے ہنر مند غیر ملکی ملازمین پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تنخواہوں میں اس قدر اضافہ ہوا تو کمپنیاں بیرون ملک سے ملازمین لانے سے گریز کریں گی۔
ادھر انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے ایک گیم ڈویلپر لیونارڈو نے کہا کہ نئی پالیسی کے باعث ان کا ویزا اسٹیٹس کم درجے میں چلا جائے گا، جس سے ان کے مستقل رہائش کے خواب متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی والدہ کو ملائیشیا لانے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن اب صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے۔
حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات غیر ملکیوں کے داخلے کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ ان کی ملازمت مقامی ہنر کی ترقی میں معاون ثابت ہو۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا ملائیشیا اپنی مقامی افرادی قوت کو مطلوبہ مہارتیں فراہم کر سکتا ہے یا نہیں۔
ملائیشیا کی 13ویں پانچ سالہ ترقیاتی پالیسی میں بھی اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ کم ہنر مند غیر ملکی مزدوروں پر مسلسل انحصار معیشت میں ٹیکنالوجی کے فروغ اور پیداواری صلاحیت میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ اسی لیے حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ 2035 تک ورک فورس میں غیر ملکیوں کا تناسب 14.1 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد تک لایا جائے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ان پالیسیوں کو جامع حکمت عملی کے بغیر نافذ کیا گیا تو ہنر مند افراد ویتنام، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کا رخ کر سکتے ہیں جہاں غیر ملکیوں کے لیے زیادہ سازگار پالیسیاں موجود ہیں۔

COMMENTS