ملائیشیا نے غیر ملکی ورکرز کی بھرتی کے نظام میں بڑی اصلاحات متعارف کرا دی ہیں، جس کے تحت درخواستوں کے عمل کو مرکزی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذ...
ملائیشیا نے غیر ملکی ورکرز کی بھرتی کے نظام میں بڑی اصلاحات متعارف کرا دی ہیں، جس کے تحت درخواستوں کے عمل کو مرکزی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے آسان بنایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد نہ صرف بھرتی کے عمل کو تیز کرنا ہے بلکہ لیبر مارکیٹ پر سخت نگرانی بھی یقینی بنانا ہے۔
نئے نظام کے تحت مختلف وزارتوں اور اداروں کے درمیان بکھرے ہوئے طریقہ کار کو ختم کر کے ایک متحدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے درخواست، منظوری اور ورک پرمٹ کے تمام مراحل ایک ہی سسٹم کے تحت مکمل ہوں گے، جس سے وقت اور کاغذی کارروائی میں نمایاں کمی آئے گی۔
حکومتی پالیسی کے مطابق، یہ اصلاحات خاص طور پر سیاحت، سروسز، مینوفیکچرنگ اور زرعی شعبوں کے لیے اہم ہیں، جہاں غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کاروباری اداروں کو درکار عملہ جلد دستیاب ہوگا، جس سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔
نئے نظام میں فارین ورکرز سینٹرلائزڈ منیجمنٹ سسٹم جیسے پلیٹ فارم کو کلیدی حیثیت دی گئی ہے، جو آجر، ریکروٹرز اور حکومتی اداروں کو ایک ہی ڈیجیٹل فریم ورک میں جوڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل انٹیگریٹڈ امیگریشن سسٹم بھی متعارف کرایا جا رہا ہے، جو امیگریشن، ویزا اور ورک پرمٹ کے نظام کو ایک مربوط نیٹ ورک میں تبدیل کرے گا۔
ماضی میں ایک درخواست مکمل کرنے کے لیے متعدد دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے، جبکہ نئے نظام کے تحت یہ عمل چند مراحل تک محدود کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف پروسیسنگ ٹائم کم ہوگا بلکہ فراڈ اور غیر قانونی بھرتیوں کے امکانات بھی کم ہوں گے۔
حکومت نے غیر ملکی ورکرز کے کوٹہ سسٹم میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں مخصوص شعبوں کے لیے محدود پیمانے پر کوٹہ دوبارہ کھولا گیا، جبکہ طویل مدتی ہدف یہ ہے کہ 2030 تک غیر ملکی ورکرز کا تناسب مجموعی لیبر فورس کا تقریباً 10 فیصد تک محدود رکھا جائے۔
مزید برآں، حکومت نے درخواستوں کے لیے وقت کی حد کو بھی کم کر دیا ہے، تاکہ صرف وہی کمپنیاں درخواست دیں جو فوری طور پر ملازمین کو بھرتی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ مزدوروں کی رہائش، تنخواہوں اور دیگر سہولیات کے حوالے سے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، ان اصلاحات سے سیاحت کے شعبے کو خاص فائدہ ہوگا، کیونکہ ہوٹل، ریسٹورنٹس اور ٹور آپریٹرز کو سیزن کے دوران عملے کی کمی کا سامنا کم ہوگا۔ تاہم، کچھ کاروباروں کے لیے اخراجات میں اضافہ بھی متوقع ہے، خاص طور پر ان اداروں کے لیے جو سستی لیبر پر انحصار کرتے تھے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی جیسے بایومیٹرک تصدیق، کیو آر کوڈ سسٹم اور ڈیٹا شیئرنگ کے ذریعے نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ 2026 میں ایک نیا ملٹی ٹئیر لیوی سسٹم متعارف کرانے کی بھی تیاری ہے، جس کے تحت مختلف صنعتوں کے لیے الگ الگ فیس مقرر کی جائے گی۔
یہ اصلاحات ملائیشیا کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد معیشت کو مضبوط بنانا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور سیاحت کے شعبے کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔

COMMENTS