کوالالمپور: حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ آجر (مالکان) جو لیبر قوانین کی خلاف ورزی، عدالتی احکامات کی عدم تعمیل یا جبری مشقت سے متعلق سزا کے ر...
کوالالمپور: حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ آجر (مالکان) جو لیبر قوانین کی خلاف ورزی، عدالتی احکامات کی عدم تعمیل یا جبری مشقت سے متعلق سزا کے ریکارڈ کے حامل ہوں گے، انہیں غیر ملکی کارکن رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیرِ انسانی وسائل آر رامنن نے کہا کہ حکومت کارکنوں، خصوصاً مہاجر مزدوروں کے استحصال کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔
ان کے مطابق ملازمت کی منظوری کے لیے سخت شرائط عائد کی گئی ہیں، جو سیکشن 60K، ایمپلائمنٹ ایکٹ 1955 (ایکٹ 265) کے تحت نافذ ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے آجروں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔
انہوں نے تحریری جواب میں دیوانِ راکیت کو بتایا کہ جباتن ٹیناگا کرجا (جے ٹی کے) کے ذریعے ہدفی معائنوں اور نگرانی کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بیان سیلایانگ سے رکن پارلیمنٹ ولیم لیونگ جی کین کے سوال کے جواب میں دیا گیا، جس میں مہاجر کارکنوں پر مبینہ زیادتیوں، پاسپورٹ ضبط کرنے اور تنخواہوں کے مسائل سے متعلق حکومتی اقدامات کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔
وزیر نے مزید بتایا کہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے شکایات درج کرانے کا آسان نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس میں ای-ایدوان ایپ شامل ہے۔ اس کے علاوہ انہیں سوشل سیکیورٹی ایکٹ 1969 کے تحت ورک انجری اسکیم اور غیر ملکی کارکنوں کے معذوری اسکیم کا تحفظ بھی حاصل ہے۔
حکومت کا نیشنل ایکشن پلان آن فورسڈ لیبر (2021-2025) بھی جبری مشقت کے خاتمے کے لیے روک تھام، تحفظ اور قانونی کارروائی پر مبنی حکمت عملی کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔

COMMENTS