ملائیشیا کے وزیراعظم نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہا...
ملائیشیا کے وزیراعظم نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران حالیہ حملوں کے بعد ایک مشکل صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔
گفتگو کے دوران ملائیشیا کی جانب سے ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لیے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم نے خاص طور پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ان افراد کے لیے تعزیت پیش کی جو حالیہ حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
بیان کے مطابق ان حملوں میں 165 اسکول طلبہ بھی ہلاک ہوئے، جس پر ملائیشیا نے ایرانی عوام کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کیا۔ یہ حملے تہران میں اسرائیل اور امریکا کی کارروائیوں کے نتیجے میں رپورٹ کئے گئے تھے۔
وزیراعظم نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ملائیشیا کسی بھی ایسے فوجی اقدام کی سخت مخالفت کرتا ہے جو کسی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرے۔
انہوں نے اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا کہ جاری تنازعہ اگر طویل ہو گیا تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن، استحکام اور عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری سفارتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا انتہائی ضروری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن قائم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو بھی اس صورتحال پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔
گفتگو میں فلسطین کے مسئلے کا بھی ذکر کیا گیا، جسے خطے کے دیرینہ تنازعات میں ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ آج بھی عالمی برادری کی فوری توجہ کا متقاضی ہے اور اس کے منصفانہ حل کے بغیر خطے میں مکمل امن ممکن نہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریق تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں گے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو اور مذاکرات کے ذریعے دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکے۔

COMMENTS