کوالالمپور: ملائیشیا کے دارالحکومت میں غیر ملکی کارکنوں اور دیگر تارکین وطن کی موجودگی اور قانونی حیثیت کی نگرانی کے لیے امیگریشن حکام نے ای...
کوالالمپور: ملائیشیا کے دارالحکومت میں غیر ملکی کارکنوں اور دیگر تارکین وطن کی موجودگی اور قانونی حیثیت کی نگرانی کے لیے امیگریشن حکام نے ایک خصوصی انسپکٹوریٹ آپریشن کیا۔ اس کارروائی کا مقصد ایسے علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لینا تھا جہاں غیر ملکی شہری بڑی تعداد میں معاشی اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔
محکمہ امیگریشن ملائشیا (جے آئی ایم) کے مطابق یہ خصوصی انسپکٹوریٹ کارروائی کوالالمپور کے معروف علاقے جالان سیلانگ میں کی گئی۔ یہ علاقہ غیر ملکی کارکنوں اور کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے ایک اہم مقام سمجھا جاتا ہے جہاں مختلف ممالک کے افراد روزگار اور کاروبار سے وابستہ ہیں۔
امیگریشن حکام کے بیان کے مطابق اس آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 1,424 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔ ان افراد میں بنگلہ دیش، نیپال، بھارت، میانمار، چین، فلپائن، پاکستان، انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے شہری شامل تھے۔
حکام نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ہر فرد کے سفری دستاویزات، ویزا اور قیام سے متعلق اجازت ناموں کی تفصیل سے جانچ کی گئی۔ اس عمل میں خاص طور پر یہ دیکھا گیا کہ آیا غیر ملکی شہریوں کے پاس درست پاسپورٹ، ویزا اور قانونی ورک پرمٹ موجود ہیں یا نہیں۔
امیگریشن حکام کے مطابق جانچ پڑتال کے نتائج سے معلوم ہوا کہ تمام افراد کے پاس درست اور فعال سفری دستاویزات موجود تھے اور وہ قانونی طور پر ملائیشیا میں موجود تھے۔ اس لیے اس کارروائی کے دوران کسی بھی فرد کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
اگرچہ اس انسپکٹوریٹ کارروائی میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، تاہم حکام نے واضح کیا کہ مکمل اور تفصیلی جانچ جاری رکھی گئی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی شخص نے اپنے ویزا یا ورک پرمٹ کی شرائط کی خلاف ورزی نہ کی ہو۔
امیگریشن حکام کے مطابق اس طرح کے انسپکٹوریٹ اقدامات صرف معمول کی کارروائی نہیں ہوتے بلکہ یہ ایک مسلسل نگرانی کے نظام کا حصہ ہیں۔ ان کا مقصد یہ دیکھنا بھی ہوتا ہے کہ امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے کیے گئے اقدامات کتنے مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کی کارروائیاں خاص طور پر غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں۔ حکام کے مطابق حکومت اس مسئلے کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے آپریشنز ملک بھر میں باقاعدگی سے جاری رکھے جائیں گے۔ ان کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کی جاتی ہے بلکہ یہ بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ غیر ملکی کارکن اور ان کے آجر امیگریشن قوانین پر مکمل طور پر عمل کریں۔
حکام کے مطابق مستقبل میں نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جانچ پڑتال، معائنہ اور رپورٹنگ کے طریقہ کار کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ اس کے ذریعے امیگریشن قوانین کی مکمل پابندی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
اس انسپکٹوریٹ آپریشن میں امیگریشن ہیڈکوارٹر کے نفاذی شعبے کے 52 افسران نے حصہ لیا۔ اس کارروائی کی نگرانی امیگریشن کے سینئر حکام نے بھی کی۔
آپریشن کے دوران لقمان آفندی رملی جو ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (آپریشنز) ہیں، اور بصری عثمان جو انفورسمنٹ ڈویژن کے ڈائریکٹر ہیں، بھی موجود تھے اور انہوں نے کارروائی کی نگرانی کی۔
حکام کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں ملائیشیا میں قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور عوامی نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ امیگریشن قوانین پر عملدرآمد ملک کے معاشی اور سماجی استحکام کے لیے اہم ہے۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی اس طرح کے انسپکٹوریٹ آپریشنز کو جاری رکھے گا تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کی جا سکے اور ملک میں مقیم غیر ملکی شہریوں کی قانونی حیثیت کی نگرانی مؤثر طریقے سے کی جا سکے۔

COMMENTS