انڈونیشیا کے صوبہ بانگکا بیلیتونگ کے شہر پنگکل پنانگ میں امیگریشن حکام نے ایک پاکستانی شہری کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں ملک...
انڈونیشیا کے صوبہ بانگکا بیلیتونگ کے شہر پنگکل پنانگ میں امیگریشن حکام نے ایک پاکستانی شہری کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں ملک بدر کر دیا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد غیر ملکیوں کی سرگرمیوں کی سخت نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔
امیگریشن حکام کے مطابق 44 سالہ پاکستانی شہری جس کی شناخت ایف ایم کے نام سے ظاہر کی گئی، کو تحقیقات کے بعد انڈونیشیا سے ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ یہ کارروائی پنگکل پنانگ کلاس ون ٹی پی آئی امیگریشن آفس کی جانب سے کی گئی۔
امیگریشن آفس کے سربراہ احمد خمیڈی نے بتایا کہ مذکورہ شہری کے خلاف امیگریشن انتظامی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے ملک بدر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی پورٹیشن کا عمل 5 مارچ کو جکارتہ کے سوئیکارنو ہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے مکمل کیا گیا۔
حکام کے مطابق امیگریشن اہلکاروں نے پورے عمل کی نگرانی کی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ شہری ملک واپس جانے والی پرواز میں سوار ہو گیا ہے۔ اس اقدام کو دیگر غیر ملکی شہریوں کے لیے بھی ایک تنبیہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امیگریشن خلاف ورزی کی تفصیلات
امیگریشن حکام کے مطابق پاکستانی شہری 25 دسمبر 2025 کو پنگکل پنانگ کے علاقے میں داخل ہوا تھا۔ بعد میں 23 فروری 2026 کو امیگریشن کے انٹیلی جنس اور نفاذ یونٹ نے اس کی موجودگی کا سراغ لگایا۔
اس کے بعد امیگریشن حکام نے تفصیلی تحقیقات شروع کیں۔ اس دوران اس کے ویزا، سفری ریکارڈ اور رہائشی اجازت نامے کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے اس شخص اور اس کے ضامن سے بھی پوچھ گچھ کی تاکہ مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔
تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ اس شخص کی سرگرمیاں اس کے رہائشی اجازت نامے کے مطابق نہیں تھیں۔ امیگریشن حکام کے مطابق یہی خلاف ورزی اس کے خلاف کارروائی کی بنیادی وجہ بنی۔
امیگریشن آفس کے سربراہ احمد خمیڈی نے کہا کہ معائنے کے نتائج سے واضح ہوا کہ مذکورہ شہری ایسی سرگرمیوں میں مصروف تھا جو اس کے امیگریشن رہائشی اجازت نامے سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔
غیر ملکیوں کی نگرانی مزید سخت کرنے کا اعلان
پنگکل پنانگ امیگریشن آفس نے اس واقعے کے بعد غیر ملکی شہریوں کی نگرانی مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق انڈونیشیا میں رہنے والے تمام غیر ملکیوں کو مقامی قوانین اور ضابطوں کی پابندی کرنا ضروری ہے۔
امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں مقیم غیر ملکیوں کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جائے گی تاکہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔
احمد خمیڈی نے کہا کہ امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر احتیاطی اور قانونی اقدامات بھی کیے جائیں گے تاکہ ملک کے امن و امان اور قومی خودمختاری کو برقرار رکھا جا سکے۔
ان کے مطابق یہ کارروائیاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ انڈونیشیا میں موجود تمام غیر ملکی شہری قانون کے دائرے میں رہ کر ہی اپنی سرگرمیاں انجام دیں۔

COMMENTS