ملائیشیا میں خاندانی زندگی سے متعلق ایک واقعہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گیا ہے جس میں ایک خاتون نے گھریلو ذمہ داریوں اور بچوں کی دیکھ بھال کے...
ملائیشیا میں خاندانی زندگی سے متعلق ایک واقعہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گیا ہے جس میں ایک خاتون نے گھریلو ذمہ داریوں اور بچوں کی دیکھ بھال کے تمام کام اکیلے سنبھالنے کے باعث شدید ذہنی اور جسمانی تھکن کا سامنا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک خاتون، جس نے اپنی شناخت زرا کے نام سے ظاہر کی، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم تھریڈز پر اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق مشکلات بیان کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گھر کی تمام ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر آ گئی تھیں جس کے باعث وہ شدید دباؤ اور تھکن کا شکار ہو گئیں۔
خاتون کے مطابق ابتدا میں گھریلو مسائل معمولی نوعیت کے تھے لیکن وقت کے ساتھ یہ دباؤ بڑھتا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ گھر کے زیادہ تر کام، جیسے برتن دھونا، کپڑے دھونا، گھر کی صفائی اور بچوں کی دیکھ بھال، انہیں اکیلے ہی کرنا پڑتے تھے جبکہ انہیں شریکِ حیات کی طرف سے زیادہ مدد نہیں ملتی تھی۔
زرا کے مطابق مسلسل ذمہ داریوں کے باعث وہ نہ صرف جسمانی بلکہ جذباتی طور پر بھی تھکن کا شکار ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس حد تک پہنچ گئی کہ انہیں اپنی ازدواجی زندگی کے مستقبل کے بارے میں سخت فیصلے پر غور کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق خاتون نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر نے علیحدگی کی صورت میں ان کی ذہنی صحت اور مالی صورتحال کو قانونی معاملے میں استعمال کرنے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شوہر بچوں کی تحویل کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
خاتون نے مزید بتایا کہ ماضی میں بچوں کی تعلیم یا سرگرمیوں میں ان کے شوہر کی شمولیت کم رہی، لیکن علیحدگی کی بات سامنے آنے کے بعد انہوں نے بچوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے زیادہ دعوے کرنا شروع کر دیے۔
زرا کے مطابق اس صورتحال نے انہیں جذباتی طور پر مزید پریشان کیا، تاہم ان کی سب سے بڑی فکر اپنے بچوں کی بھلائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ والدین کے اختلافات کا اثر بچوں کی زندگی پر پڑے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے حالات بہت سی خواتین کو درپیش ہوتے ہیں جہاں گھریلو ذمہ داریوں کا زیادہ بوجھ ایک فرد پر آ جاتا ہے جس سے ذہنی دباؤ اور تھکن پیدا ہو سکتی ہے۔

COMMENTS