کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی تازہ کشیدگی...
کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی تازہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے اور اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جلد امن اور استحکام بحال ہو سکے گا۔
بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ موجودہ صورتحال اور خطے میں ہونے والی پیش رفت پر ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں رہیں گے تاکہ کسی بھی نئی صورتحال پر مشترکہ طور پر مؤثر ردعمل دیا جا سکے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ان دنوں مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفون پر رابطے کر رہے ہیں۔ ان رابطوں کا مقصد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔ ان حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے، جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل بتائے گئے۔
ان حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی خطے میں موجود امریکی تنصیبات کی طرف میزائل داغے۔ اس کے نتیجے میں پورے مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے مختلف ممالک سفارتی سطح پر رابطے تیز کر رہے ہیں تاکہ تنازع مزید نہ بڑھے۔
ملائیشیا اور پاکستان دونوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ بحران کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے کشیدگی میں کمی اور بات چیت کا عمل ضروری ہے۔

COMMENTS