ملائیشیا میں انسانی حقوق کی تنظیم فورٹیفائی رائٹس کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مہاجرین کو امیگریشن حراستی مراکز میں سخت اور غیر...
ملائیشیا میں انسانی حقوق کی تنظیم فورٹیفائی رائٹس کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مہاجرین کو امیگریشن حراستی مراکز میں سخت اور غیر انسانی حالات کا سامنا ہے۔ تنظیم نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ ہزاروں مہاجرین طویل عرصے سے حراست میں ہیں اور انہیں بنیادی قانونی سہولیات تک مکمل رسائی حاصل نہیں۔
رپورٹ کے مطابق مہاجرین کی اکثریت روہنگیا مسلمان دراصل راکھینی سٹیٹ، میانمر سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2017 سے وہاں جاری تشدد اور مظالم کے باعث ہزاروں افراد کو اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا۔ ان میں سے بہت سے افراد خطرناک سمندری سفر کے بعد ملائشیا پہنچے یا پھر بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں منتقل ہوئے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ملائیشیا پہنچنے کے بعد بھی بہت سے روہنگیا مہاجرین کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض افراد کو کام کی جگہوں پر استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ کئی افراد کو امیگریشن حراستی مراکز میں طویل عرصے تک رکھا جاتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملائیشیا کے مہاجرین حراستی مراکز میں 21 ہزار سے زائد تارکین وطن اور مہاجرین موجود ہیں۔ ان مراکز کو محکمہ امیگریشن ملائشیا کے تحت چلایا جاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ان حراستی مراکز میں 8,884 افراد میانمار سے تعلق رکھتے ہیں جن میں 5,102 روہنگیا شامل ہیں۔ یہ مراکز اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملائیشیا نے اب تک 1951 ریفیوجی کنونشن کی توثیق نہیں کی۔ اس وجہ سے حکومت باضابطہ طور پر مہاجرین کے قانونی اسٹیٹس کو تسلیم نہیں کرتی۔
اسی وجہ سے اقوام متحدہ ہائی کمیشنر برائے مہاجرین کی جانب سے رجسٹرڈ مہاجرین کو بھی مکمل قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔
رپورٹ کے مطابق جنوری میں محکمہ امیگریشن ملائشیا نے مہاجرین کے لیے ایک نیا رجسٹریشن نظام متعارف کرانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس نظام کے تحت موجودہ رجسٹریشن کو تبدیل کیا جا سکتا ہے جو پہلے یو این ایچ سی آر کے ذریعے کیا جاتا تھا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر یہ نظام درست طریقے سے نافذ کیا جائے تو اس سے مہاجرین کو غیر قانونی داخلے کے مجرم قرار دینے کا عمل ختم کیا جا سکتا ہے اور انہیں بہتر قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
فورٹیفائی رائٹس کے انسانی حقوق کے ماہر یپ لے شینگ نے کہا کہ ملائیشیا کے امیگریشن حراستی مراکز دنیا کے ان نظاموں میں شامل ہیں جہاں مہاجرین کو سخت حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق روہنگیا افراد چونکہ بے وطن ہیں اس لیے انہیں اکثر قانونی خلا کی صورتحال میں رکھا جاتا ہے۔ بعض کیسز میں یہ حراست کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق کسی بھی شخص کو بلاجواز گرفتاری، غیر معینہ مدت کی حراست یا ایسے ملک واپس بھیجنے سے تحفظ حاصل ہونا چاہیے جہاں اسے خطرہ لاحق ہو۔

COMMENTS