ملائیشیا کی ریاست جوہر میں پولیس ایک ایسے شخص کی تلاش میں مصروف ہے جس پر ایک مسجد کے اندر انتہائی نازیبا حرکت کرنے کا الزام ہے۔ حکام کے مطاب...
ملائیشیا کی ریاست جوہر میں پولیس ایک ایسے شخص کی تلاش میں مصروف ہے جس پر ایک مسجد کے اندر انتہائی نازیبا حرکت کرنے کا الزام ہے۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ ضلع سیگامات کے علاقے بُکِت سیپوت میں پیش آیا، جہاں ایک غیر ملکی شخص نے مبینہ طور پر مسجد کے اندر غیر اخلاقی حرکت کی۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔
سیگامات ضلع کے پولیس سربراہ محمد جمازانظاہر اسماعیل کے مطابق پولیس کو اس واقعے کی اطلاع بدھ کے روز شام 6 بج کر 29 منٹ پر موصول ہوئی۔ یہ رپورٹ ایک مقامی خاتون نے درج کروائی، جن کی عمر چالیس سال کے قریب بتائی گئی ہے۔ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ یہ واقعہ اسی دن صبح تقریباً 11 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا تھا۔
پولیس کے مطابق شکایت کنندہ خاتون اس وقت مسجد میں موجود تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مسجد میں نماز پڑھ رہی تھیں کہ اسی دوران ایک شخص وہاں آیا اور اس نے انتہائی نامناسب حرکت شروع کر دی۔ خاتون کے مطابق اس شخص نے مسجد کے اندر کھڑے ہو کر غیر اخلاقی حرکت کی، جس سے مسجد کے ماحول اور تقدس کو ٹھیس پہنچی۔
خاتون نے اپنے بیان میں بتایا کہ جب انہوں نے اس شخص کی حرکت کو محسوس کیا تو وہ شدید پریشان اور خوفزدہ ہو گئیں۔ انہوں نے فوری طور پر وہاں سے نکل کر اس صورتحال سے خود کو محفوظ کیا اور بعد ازاں اس واقعے کے بارے میں پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کی رپورٹ کے بعد اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا گیا اور فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشتبہ شخص ایک غیر ملکی شہری ہو سکتا ہے اور اس کی عمر تقریباً تیس سال کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے۔ تاہم ابھی تک اس شخص کی مکمل شناخت سامنے نہیں آ سکی ہے۔ حکام اس کی شناخت کے لیے مختلف شواہد اور معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔
پولیس حکام نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے دوران مسجد کے اردگرد نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ مشتبہ شخص کی نقل و حرکت اور شناخت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ پولیس علاقے کے لوگوں سے بھی معلومات حاصل کر رہی ہے تاکہ ملزم تک جلد از جلد پہنچا جا سکے۔
حکام کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ عبادت گاہوں کے تقدس کے بھی خلاف ہیں۔ اسی لیے پولیس اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ملزم کو جلد گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سیگامات پولیس نے عوام سے بھی تعاون کی اپیل کی ہے۔ پولیس کے مطابق اگر کسی شخص کے پاس اس واقعے سے متعلق معلومات ہوں یا وہ مشتبہ شخص کے بارے میں کچھ جانتا ہو تو وہ فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کرے۔ اس طرح کی معلومات تحقیقات میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ عبادت گاہیں امن، احترام اور عبادت کے لیے مخصوص مقامات ہوتی ہیں۔ ان مقامات پر کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی یا غیر قانونی حرکت نہ صرف مذہبی اقدار کے خلاف ہے بلکہ قانون کے تحت قابل سزا بھی ہے۔
یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد مقامی سطح پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کے بارے میں مختلف ردعمل دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ تاہم پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات یا افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند معلومات پر ہی انحصار کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی اس کیس سے متعلق مزید پیش رفت ہو گی، اسے عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ اس وقت پولیس کی توجہ ملزم کی شناخت اور گرفتاری پر مرکوز ہے تاکہ قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

COMMENTS