محکمہ امیگریشن ملائشیا نے شعبہ نفاذِ قانون کے ذریعے 2 مارچ 2026 کو صبح 11:06 بجے سبانگ جایا، سیلانگور میں ایک گودام پر چھاپہ مار کارروائی کی...
محکمہ امیگریشن ملائشیا نے شعبہ نفاذِ قانون کے ذریعے 2 مارچ 2026 کو صبح 11:06 بجے سبانگ جایا، سیلانگور میں ایک گودام پر چھاپہ مار کارروائی کی، جہاں غیر ملکی شہریوں کے زیرِ انتظام صحت سے متعلق مصنوعات کا کاروبار چلایا جا رہا تھا۔
کارروائی کے دوران آٹھ چینی شہریوں کو گرفتار کیا گیا جن میں ایک مرد اور سات خواتین شامل ہیں۔ ان پر پاس کے غلط استعمال اور درست سفری دستاویزات نہ رکھنے کا شبہ ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مذکورہ گودام کو صحت کی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا، جہاں زیادہ تر چینی سیاحوں کو ہدف بنایا جاتا تھا۔ اندازے کے مطابق اس منظم اور خفیہ کاروبار سے ماہانہ دو لاکھ سے چار لاکھ رنگٹ تک منافع حاصل کیا جا رہا تھا۔
اسی روز صبح 11:25 بجے بندر سنسوریا، سپانگ میں ایک علیحدہ کارروائی کے دوران چھ چینی شہریوں (پانچ مرد اور ایک خاتون) کو سوشل وزٹ پاس کے غلط استعمال کے الزام میں گرفتار کیا گیا، جو ایک چینی ریسٹورنٹ میں کاروباری سرگرمیوں اور ملازمت میں ملوث پائے گئے۔ اسی چھاپے میں 16 میانمار کے شہریوں کو بھی حراست میں لیا گیا جو بغیر درست ورک پاس کے کام کر رہے تھے۔
مجموعی طور پر گرفتار کیے گئے 30 افراد، جن کی عمریں 21 سے 62 سال کے درمیان ہیں، کو مزید تفتیش کے لیے کے ایل آئی اے امیگریشن ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے۔
تمام ملزمان کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63، پاسپورٹ ایکٹ 1966، امیگریشن ریگولیشنز 1963 اور انسدادِ انسانی اسمگلنگ و تارکین وطن اسمگلنگ ایکٹ 2007 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
امیگریشن حکام نے واضح کیا ہے کہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد یا نیٹ ورک کے خلاف ہدفی اور مسلسل کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ ملکی قوانین اور خودمختاری کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

COMMENTS