ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں واقع جالان سلطان ازلان شاہ (چوکِٹ) پاکستانی کمیونٹی کی سرگرمیوں کے باعث “لٹل پاکستان” کے نام سے مشہور ...
ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں واقع جالان سلطان ازلان شاہ (چوکِٹ) پاکستانی کمیونٹی کی سرگرمیوں کے باعث “لٹل پاکستان” کے نام سے مشہور ہو چکی ہے، جہاں ہر شام پاکستانی کھانوں کی خوشبو، کاروباری سرگرمیاں اور ثقافتی ماحول اس علاقے کو ایک منفرد شناخت دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، شام 7 بجے کے بعد یہ علاقہ خاص طور پر پر رونق ہو جاتا ہے، جہاں پاکستانی ریسٹورنٹس کی قطاریں مقامی اور غیر ملکی افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ یہاں مٹن کڑاہی، چپلی کباب، بریانی اور گرلڈ بوٹی جیسے روایتی کھانے پیش کیے جاتے ہیں، جو پاکستانی ذائقوں کے شوقین افراد کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔
علاقے میں صرف ریسٹورنٹس ہی نہیں بلکہ پاکستانی گروسری اسٹورز بھی موجود ہیں، جہاں باسمتی چاول، سرخ مرچ، ہلدی، زیرہ، دھنیا، گرم مصالحہ، الائچی اور لونگ سمیت مختلف پاکستانی مصالحہ جات دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی طرز کے ہیئر سیلونز، ہوٹلز اور دیگر کاروبار بھی یہاں قائم ہیں، جو اس جگہ کو مکمل پاکستانی طرز زندگی کی عکاسی بناتے ہیں۔
مقامی کاروباری شخصیات کے مطابق، 1990 کی دہائی میں “مہران” نامی ریسٹورنٹ اس علاقے میں پاکستانی کھانوں کا آغاز کرنے والوں میں شامل تھا۔ اس کے بعد 2007 میں “راس بلوچ ریسٹورنٹ” کے قیام نے مزید لوگوں کو اس جانب راغب کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر کاروبار بھی یہاں منتقل ہوتے گئے، جس سے ایک مکمل کاروباری ماحولیاتی نظام تشکیل پایا۔
“پاک پنجاب” کے شریک بانی ملک نعیم، جو تقریباً 20 سال سے ملائیشیا میں مقیم ہیں، نے بتایا کہ “ایک وقت تھا جب شام کے بعد یہ علاقہ بالکل سنسان ہوتا تھا، لیکن آج یہ جگہ پاکستانی ثقافت کا مرکز بن چکی ہے۔ ہم نے یہاں پاکستانی پنجابی کھانوں کو متعارف کرایا تاکہ ملائیشین عوام بھی اس ذائقے سے لطف اندوز ہو سکیں۔”
اسی طرح، خان جی برانڈ کے مالک نسیم خان نے بتایا کہ 2010 میں قائم ہونے والا “خان فوڈز” اس علاقے میں پاکستانی مصالحہ جات کی دستیابی کا اہم ذریعہ بنا، کیونکہ اس سے پہلے پاکستانی کمیونٹی کو اپنی ضروری اشیاء پاکستان سے منگوانی پڑتی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق، 2011 کے بعد اس علاقے میں کاروبار کی رفتار تیز ہوئی، جب ایک پاکستانی شہری نے اپنی ملائیشین اہلیہ کے ساتھ “ڈائنامک ہوٹل” قائم کیا۔ اس کے بعد مزید ہوٹلز، سیلونز اور ریسٹورنٹس کھلتے گئے، جن میں “ہاؤس آف پاکیزا”، “خان جی”، “مونال” اور “ریستوران قاضی” شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت اس علاقے میں 20 سے زائد پاکستانی کاروباری ادارے کام کر رہے ہیں، جن میں ریسٹورنٹس، گروسری اسٹورز اور دیگر خدمات شامل ہیں۔ پاکستانی ہائی کمیشن کے مطابق، ملائیشیا میں پاکستانی کمیونٹی کی تعداد 85 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جو اس علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
مزید برآں، یہ علاقہ نہ صرف پاکستانیوں بلکہ دیگر جنوبی ایشیائی ممالک اور یورپی سیاحوں کے لیے بھی ایک دلچسپی کا مرکز بن چکا ہے۔ یہاں آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ جگہ انہیں پاکستان کے شہروں جیسے کراچی اور لاہور کی یاد دلاتی ہے۔
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے علی شاہ نے کہا، “جب میں یہاں آتا ہوں تو مجھے لگتا ہے جیسے میں پاکستان میں ہوں۔ یہاں کا ماحول، مہمان نوازی اور کھانے سب کچھ ویسا ہی ہے۔”
اسی طرح، سید ارشد نامی ایک اور پاکستانی شہری نے بتایا کہ “یہ جگہ ہمارے لیے گھر جیسی ہے، جہاں مختلف ممالک کے لوگ آ کر اکٹھے ہوتے ہیں اور پاکستانی ثقافت کو قریب سے دیکھتے ہیں۔”
جالان سلطان ازلان شاہ کا یہ علاقہ ملائیشیا میں کثیر الثقافتی ہم آہنگی کی ایک بہترین مثال ہے، جہاں کاروبار، ثقافت اور کمیونٹی ایک ساتھ پروان چڑھ رہے ہیں۔

COMMENTS