کوالالمپور: ملائیشیا کی حکومت نے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ایک نیا مرکزی ورک پاس سسٹم متعارف کرا دیا ہے، جس کا م...
کوالالمپور: ملائیشیا کی حکومت نے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ایک نیا مرکزی ورک پاس سسٹم متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد درخواست کے عمل کو تیز، شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔
حکام کے مطابق یہ نیا نظام سیاحت، مہمان نوازی، تعمیرات اور زراعت جیسے شعبوں میں غیر ملکی افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس سے پہلے غیر ملکی کارکنوں کو مختلف اداروں کے پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑتا تھا، جس کے باعث تاخیر اور بیوروکریسی کے مسائل پیدا ہوتے تھے۔
نئے مرکزی نظام کے تحت اب تمام درخواستیں ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع اور پراسیس کی جائیں گی، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ شفافیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے جعلسازی کے امکانات کم ہوں گے اور ہر کارکن کی بہتر جانچ پڑتال ممکن ہو سکے گی۔
سیاحت اور ہوٹلنگ کے شعبے میں اس پالیسی کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ عالمی سطح پر سیاحت کی بحالی کے ساتھ ہی افرادی قوت کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نئے نظام سے ہوٹل، ریزورٹس اور ٹریول کمپنیوں کو جلدی اور مؤثر انداز میں ملازمین بھرتی کرنے میں مدد ملے گی۔
مزید برآں، حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ یہ نظام صرف سہولت تک محدود نہیں بلکہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے گا۔ حکام کے مطابق اب آجر یا کمپنی پر زیادہ مؤثر نگرانی ممکن ہوگی تاکہ وہ مناسب تنخواہ اور بہتر کام کے حالات فراہم کریں۔
تاہم، اس نئے نظام کے حوالے سے کچھ خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ خاص طور پر چھوٹے کاروباری اداروں کو خدشہ ہے کہ آن لائن نظام کو سمجھنا اور استعمال کرنا ان کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بعض حلقوں نے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے اخراجات میں ممکنہ اضافے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو ملائیشیا خطے میں سیاحت کے میدان میں تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور سنگاپور جیسے ممالک سے سخت مقابلہ کر رہا ہے۔ ایسے میں افرادی قوت کی بروقت دستیابی ملک کی مسابقتی پوزیشن کو مضبوط بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
اگر اس نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو یہ نہ صرف لیبر مارکیٹ کو مستحکم کرے گا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ملائیشیا عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور منصفانہ لیبر مارکیٹ کے طور پر اپنی ساکھ کو بھی بہتر بنا سکے گا۔

COMMENTS